Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

بڑی کار سا ز کمپنیاں ملی بھگت سے کروڑوں کے ٹیکس چوری میں ملوث نکلیں

ایس آر او 655کے ذریعے کاروں کی صنعت میں 3کروڑ 64لاکھ ڈالر کا فراڈسامنے آگیا

289
Spread the love

اسلام آباد:آٹو صنعت سے وابستہ تین بڑی کار سا ز کمپنیوں کے سرکاری ملازمین کو استعمال کرکے ایف بی آر اور انجینئر ڈویلپمنٹ بورڈ( ای ڈی بی ) کے ساتھ ملی بھگت سے ایس آر او کے ذریعے ٹیکس چوری کی مد میں غیرقانونی طور پر مال بنانے کا انکشاف ہوا ہے جو کہ کار صنعت، ایف بی آر اور اڈی بی کےلئے باعث شرم فعل ہے ،ایس آر او 655کے ذریعے کاروں کی صنعت میں 3کروڑ 64لاکھ ڈالر کا فراڈسامنے آگیا ہے۔ ذرائع نے بتایا وہ ایک مرتبہ پھر الیکٹر ک وہیکل پالیسی کے لئے ایف بی آر/ای ڈی بی کے ساتھ ملی بھگت سے ایک اور ایس آر او جاری کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت حکومت ہائبرڈ گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیاں قرار دےگی۔ حالانکہ ہائبرڈ گاڑیاں نیشنل گرڈ سے دوبارہ چارج نہیں ہو تیں بلکہ یہ اپنے انجن میں داخلی سسٹم کے ذریعے ریچارج ہوتی ہیں جس میں پٹرول ایندھن کا کام کرتاہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان الیکٹرک وہیکلز اینڈ سپیئر پارٹس مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن(پیوپمٹا) کی جانب سے وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماداظہر،وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی چوہدری فوادحسین اور وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم کے نام لکھے گئے ایک حالیہ خط میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرک وہیکل(ای وی )پالیسی 2020منظور شدہ ہے جس کا نفاذ اور اسکے اثرات جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔اس حوالے سے بہت سا کام ہوچکاہے اور نئے سرمایہ کاروں کی جانب سے لاکھوں روپے کا سرمایہ لگایا جاچکاہے۔ای وی انجنئیرنگ ڈویلپمنٹ (ای وی ای ڈی بی ) وقت کی ضروت ہے کیونکہ یہ نئی ٹیکنالوجی ہے اور اس بنیادپر تیزی سے نئی پیش رفتیں سامنے آرہی ہیں ، تما م نئی ایپلیکیشنز،معاملات اور ای وی سے متعلقہ دیگر معاملات ای وی بورڈ کے ساتھ نمٹنائے جانے چاہئیں۔ ای وی ای ڈی بی کو نئی ایجادات کے مطابق تیار اور باصلاحیت ہوناچاہئیے تاکہ اسکے سامنے آنے والے الیکٹرک وہیکل معاملات کو حل کیا جاسکے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ہم نے ای ڈی بی انتظامیہ کے ساتھ چند اجلاسوں میں اس معاملے کی وضاحت کرنے کی کوشش کی جس میں ہمیں مدعو کیا گیاتھا لیکن پھر انہوں نے آٹو مافیا کی ایمائ پر سفارشات کےلئے طلب کئے جانیوالے ان اجلاسوں میں ہماری موجودگی کو ختم کردیا اور ہماری ایسوسی ایشن یا آزاد ای وی ماہرین کو بلانا ترک کردیا گیا۔جبکہ دوسری جانب وزارت صنعت و پیداوار نے انپی پالیسی میں اعتراف کیا ہے کہ ای وی ٹیکنالوجیز کنسلٹنٹ ای وی پالیسی کی تیاری میں کردار اد ا کررہا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ای ڈی بی اور اے آئی ڈی سی دونوں ادارے گاڑیوں کی صنعت میں کئی دیہائیوں سے ریگولیٹرز رہ چکے ہیں لیکن وہ آئی ای ایس ماڈلز تک محدود ہیں کیونکہ الیکٹرک وہیکل ایپلیکیشن نہیں تھی۔افسوس کے ساتھ کہناپڑتا ہے کہ بورڈ کا کوئی بھی ممبر ای وی بورڈ ممبر کے طور پر معیار پر پورا نہیں اترتا کیونکہ یہ 2020کی نئی ٹیکنالوجی ہے۔ ای ڈی بی آٹومافیا کےلئے مہر لگانے والی مشین بن چکا ہے۔لہذا اگر آپ ای ڈی بی بورڈ کی تشکیل پر غور کریں تو آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ایس آر او 655 کے تحت 3کروڑ 64لا کھ ڈالر سے زائد کا دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ سکینڈل سامنے آرہاہے جس سے ای ڈی بی اور آٹو صنعت میں پنڈوراباکس کھل جائے گا۔لہذا ہماری اپیل ہے کہ اس کا فوری نوٹس لیا جائے اور ای وی سرمایہ کاروں سے مشاورت سے پرانے ای ڈی بی بورڈ کے حوالے سے سخت فیصلے کئے جائیں کیونکہ یہ بورڈ نااہل ہے ،ای وی ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ نہیں کیاجارہا اور سب سے بڑھ کر مفادات کے ٹکراﺅ کا معاملہ ہے۔ہمیں اگر بلایا جاتا ہے تو اس سلسلے میں ای وی پر اور ای وی ای بی ڈی کی تشکیل کےلئے شفاف انداز میں اپنی نمائندگی اور آرا ئ دینے کےلئے تیار ہیں۔