Official Web

نوازشریف کیخلاف انوسٹی گیشن،شہباز کیخلاف انکوائری کی منظوری

سرتاج عزیز ،سابق ڈی آئی جی رانا اقبال کے خلاف بھی انکوائری ہوگئی،نیب

250
Spread the love

اسلام آباد:نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دے دی گئی۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق سینیٹرسرتاج عزیز اور سابق ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پنجاب رانا محمد اقبال خان کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔چیئرمین نیب کی جانب سے دیگرجن افراد کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ان میں رکن صوبائی اسمبلی پنجاب مہرحامد رشید، مہرعبد الرو¿ف، ہیون ولاز فیصل آباد کے مالکان، ڈویلپرانتظامیہ اور دیگر، عتیق الرحمٰن، سابق رکن صوبائی اسمبلی شیخ اعجاز احمد اور دیگراور یونیورسٹی آف پنجاب کے پی ایچ ڈی ڈیفالٹنگ اسکالرزشامل ہیں۔نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف انوسٹی گیشن کی بھی منظوری دی، جس میں ان کے ساتھ سابق سیکرٹریی وزیر اعلیٰ پنجاب جاوید، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ اور دیگرشامل ہیں۔نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ میں ایف آئی ای ڈی ایم سی انوائرنمنٹ منیجمنٹ کمپنی فیصل آباد کی انتظامیہ، افسران،اہلکاروں، پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اور منیجمنٹ کمپنی، لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی، پنجاب میونسپل ڈیویلپمنٹ فنڈ کمپنی، گجرانوالا ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی انتظامیہ، افسران، اہلکاروں اور دیگرکے خلاف انکوائریز اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دے دی گئی۔قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جنا ب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کے لیے نیب سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور نیب کی اولین ترجیح ہے کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے قانو ن کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپنا راستہ خودبنائے گا۔انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹرجنرل کو ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں اور تمام انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکوٹرز پوری تیاری، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔