Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

اسلام آباد سیکٹر آئی الیون میں 170پلاٹوں کی بوگس الاٹمنٹ کاانکشاف

سی ڈی اے کے 11افسران اور 6پراپرٹی ڈیلر بوگس الاٹمنٹ میں ملوث

257
Spread the love

اسلام آباد (آن لائن )سی ڈی اے میں پراپرٹی ڈیلرز مافیا اور افسران کے مبینہ گٹھ جوڑ سے اتھارٹی کو ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان پہنچاتے ہوئے سیکٹر آئی الیون میں 170 پلاٹوں کی بوگس الاٹمنٹ کا انکشاف ہوا ہے ، کوریجنڈم (متبادل پلاٹ )اور متاثرین کو الاٹمنٹ کے نام پر بوگس فایلوں کی الاٹمنٹ میں سی ڈی اے کے 11افسران و ملازمین کیساتھ 6پراپرٹی ڈیلرز کے ملوث ہونے کا بھی معلوم ہوا ہے ، سی ڈی اے کے ذرائع کا دعوی ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں شعبہ لینڈ و بحالیات میں تعینات رہنے والے افسران و ملازمین گزشتہ دو سالوں سے اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کا نیا دھندہ شروع کر رکھا ہے جس میں متاثرین کے متعدد سیکٹرز میں کوریجنڈم کے نام پر بوگس فایلوں پر قیمتی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی گئی ہے، انہی ذرائع کے مطابق صرف سیکٹر آئی الیون میں 170 پلاٹوں کو متاثرین کے نام پر بوگس کاغذات کے ذریعے پچھلی تاریخوں میں پہلے الاٹمنٹ کرنے کے بعد پچھلی تاریخوں میں ہی ان پلاٹوں کا کوریجنڈم کرنے کے بعد نیا الاٹمنٹ لیٹر جاری کر کے سابقہ تمام ریکارڈ غایب کر دیا گیا ہے ،اس گورکھ دھندے میں ملوث سی ڈی اے کے مبینہ گیارہ افسران و ملازمین سمیت چھ پراپرٹی ڈیلرز مافیا میں سی ڈی اے کے افسران میں فرید الدین، رانا فرحان ، ذوالفقار جونیجو، عنایت اللہ، امداد، سمیر چوہان ، حنیف ، قائم علی شاہ، نعمان خان، محسن عامر ، اور فرحان حسین جبکہ ڈیلرز میں مبینہ طور پر چوہدری سجاد ، چوہدری اسحاق ، چوہدری انور ، رضوان احمد اور فرحان خان شامل ہیں ، انہی ذرائع مزید دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد افسران جو سی ڈی اے اور ایم سی آئی میں اسوقت تعینات ہیں یا سی ڈی اے سے جاچکے ہیں یا پھر معطل ہیں ان سے پچھلی تاریخوں میں دستخط کروانے سے لیکر ون ونڈو تک ان بوگس پلاٹوں کی ٹرانسفر تک ایک فایل پر 20 لاکھ روپے تک رشوت انہی ڈیلرز کے ذریعے دی جاتی رہی ہے جبکہ شعبہ لینڈ و بحالیات میں تعینات رہنے والے متعدد سابقہ افسران ان بوگس فایلوں میں باقاعدہ حصہ دار بھی ہیں اور ان ڈیلرز مافیا کے ساتھ ملکر برابری کی حصہ داری پر سیکٹر آئی الیون کے علاہ ڈی تیرہ ، آئی بارہ اور ای چودہ میں بھی ایسی ہی جعلی کاروائیاں کی گئی ہیں جن کی محکمانہ تحقیقات کا عمل مکمل کر کے تمام معاملات تحقیقاتی اداروں کے سپرد کئے جائیں گے۔