Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

مقبوضہ کشمیر ،امریکا اور اقوام متحدہ

راجہ جاوید علی بھٹی

112
Spread the love

امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال اور مذہبی آزادیوں پر لگائی جانیوالی ضرب پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی ایوا ن نمائندگان کو کمیٹی کی جانب سے محکمہ خارجہ، غیرملکی آپریشنز اور دیگر پروگراموں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس میں مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی بگڑتی صورتحال پر کمیٹی نے شدید تشویش ظاہر کی اور شہریت سے متعلق قانون میں مذہب کا خانہ شامل کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال پر ایوان کو حکومتی حکمت عملی سے آگاہ کریں جس میں یہ بتایا جائے کہ بھارت لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی، جمع ہونے، مذہبی آزادی اور قانون کی بالادستی سے متعلق بھارت کیا اقدامات کر رہا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے مائیک پومپیو سے کشمیر کی صورتحال پر 90 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے لیے فنڈنگ کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بھارت کو تیسری یادداشت بھیج دی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارت کو بھیجی گئی یادداشت میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں،لاک ڈاؤن اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیریوں پر مظالم کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائے اور کشمیریوں کے قتل، تشدد اور بدسلوکیوں میں ملوث ذمہ داروں پر مقدمہ چلائے۔ خیال رہے کہ پانچ اگست 2019ء کے بعد سے اب تک اقوامِ متحدہ تین یادداشتیں بھارت کو ارسال کر چکا ہے لیکن بھارت نے کسی ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔ اقوام متحدہ نے کسی یادداشت کا جواب نہ دینے کے بھارتی فیصلے کو افسوس ناک قرار دیاہے۔ دوسری جانب امریکا کے ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ایلیٹ اینگل نے مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر آئندہ چند ماہ میں کانگریس میں قرارداد لانے کا وعدہ کیا ہے۔ ایلیٹ اینگل نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ کانگریس مین ایلیٹ اینگل کے مطابق وہ جانتے ہیں کہ اس معاملے کو امور خارجہ کمیٹی کو دیکھنا ہو گا تاہم ابھی کانگریس صدر کے مواخذے اور دیگر امور میں مصروف ہے مگر اس بات کا عمومی احساس موجود ہے کہ قرارداد کا مسودہ آئندہ چند ماہ میں تیار کر لیا جائے۔ امورخارجہ کمیٹی کے چئیرمین ایلیٹ اینگل نے بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے اس بیان پر شدید تذبذب کا اظہار کیا کہ انتہا پسندی ختم کرنے کے نام پر کشمیری بچوں کو بھارتی کیمپوں میں ڈالنے کی پالیسی اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایلیٹ اینگل نے کہا کہ بلاخر ہم ذیلی کمیٹی اور پھر کمیٹی کی سطح پر ان چیزوں کو دیکھیں گے اور اس قابل ہو جائیں گے کہ اسے ٹھیک کریں اور معاملے سے نمٹیں۔ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب اموات اور ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایلیٹ اینگل نے تسلیم کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ایسی چیزیں ہو رہی ہیں جو اراکین کانگریس ہی نہیں دیگر افراد کے لیے بہت پریشان کُن ہیں۔ایلیٹ اینگل نے واضح کیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ محض اپنا رخ موڑ کر ہم یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو رہا، وہاں جو ہو رہا ہے اس پر بہت سے لوگوں کو تشویش ہے اور وہ ان معاملات کو بھارت کے سامنے اچھی طرح اٹھائیں گے۔ امور خارجہ کمیٹی کے چئیرمین نے عزم ظاہر کیا کہ اس معاملے سے ہر صورت نمٹا جائے گا۔اس سوال پر کہ آیا کانگریس بھارت کو مجبور کرے گی کہ وہ پانچ اگست کا اقدام واپس لے، ایلیٹ اینگل نے کہا کہ امریکا کا صدر اور اس کی انتظامیہ ہی خارجہ امور میں زیادہ تر سفارتکاری کرتی ہے تو اس لیے زیادہ تر چیزیں تو ٹرمپ انتطامیہ کو کرنا ہیں تاہم کانگریس کا بہت اہم کردار ہے اور ایسے واقعات میں اسے وہ اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو کانگریس تک پہنچانے، اراکین کو مسئلے کی پیچیدگیوں اور بھارت کے حربوں سے آگاہ کرنے والے پاکستانی امریکن ڈیموکریٹ ڈاکٹر آصف محمود کی خدمات کو قابل ستائش قرار دیا۔ایلیٹ اینگل نے کہا کہ ڈاکٹر آصف محمود ان کے دوست ہیں اور جو اقدامات ڈاکٹر آصف محمود کر رہے ہیں وہ انتہائی اہم ہیں جس پر وہ ڈاکٹر آصف محمود کے شکرگزار ہیں۔اس سوال پر کہ آیا ڈاکٹر آصف محمود کی جن کوششوں کی ستائش کی گئی، وہ نتیجہ خیز بھی ثابت ہو سکیں گی؟ ایلیٹ اینگل نے کہا کہ وہ پرامید ہیں اور ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آپ کھڑکی کھولیں اور تازہ ہوا کا جھونکا اندر آنے دیں۔ایلیٹ اینگل نے کہا کہ ان کے نزدیک جب تک لوگ مسئلہ کشمیر پر بات کر رہے ہیں، وہاں کے مناظر کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور صورت حال کو مانیٹر کر رہے ہیں تو وہ ہمارے لیے بہتر ہے۔ چیئرمین امور خارجہ کمیٹی نے کہا کہ کانگریس کے نکتہ نظر سے ایوان نمائندگان اور امور خارجہ کمیٹی کے نکتہ نظر سے کشمیر ایک اہم ایشو ہے جسے ہم ضرور دیکھیں گے۔ اس سوال پر کہ آیا امریکا ایران کشیدگی کا معاملہ کہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے امریکا کی نظریں ہٹنے کا سبب تو نہیں بن سکتا؟ ایلیٹ اینگل نے کہا کہ نہیں، ایسا نہیں ہے، ہم دو یا تین چیزیں ایک ساتھ کر سکتے ہیں۔ایلیٹ اینگل نے کہا کہ امریکا میں بطور مزاح کہا جاتا ہے کہ ‘ہم ایک ہی وقت میں چل بھی سکتے ہیں اور چیونگم بھی چبا سکتے ہیں اور یہی صورت حال کشمیر کے معاملے پر بھی ہے۔