Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

میڈیکل تعلیم یا کاروبار

وسیم کمبوہ

355
Spread the love

میرے ایک جاننے والے ڈاکٹرجو کسی کورس کے سلسلے میں برطانیہ گئے ہوئے تھے نے ایک دن اچانک مجھے کال کی ،کافی پریشان اور مایوس لگ رہے تھے کہنے لگے کہ جناب یہاں یوکے میں پاکستانی ڈاکٹرزکو بہت ہی کو اچھوت سمجھا جاتا ہے ، ہم یہاں پر مریضوں کو انجکشن تک نہیں لگا سکتے برطانیہ کی نرسزتک کوپاکستانی ڈاکٹرز سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، اس کی وجہ انہوں نے بتائی کہ برطانیہ کی پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے معیار سے متعلق کوئی اچھی رائے نہیں ہے برطانیہ کے علاوہ یورپ امریکہ میں بھی یہی صورتحال ہے خدارا اس حوالے سے آواز اٹھائیں کہ پاکستان میں درجنوں میڈیکل کالجز قائم کرنے کی بجائے موجودہ کالجز کے معیار تعلیم پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے ۔خیر فون بند اور بات ختم۔
جس دن سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وجود میں آئی ہے آئے روز کوئی نا کوئی بحران و چیلنج حکومت کیلئے منہ کھولے کھڑاہوتا ہے،وزیر مشیر عزیز اپنے کام کرنے کی بجائے دوسروں کے کاموں میں مداخلت کرتے زیادہ نظر آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مافیا میں گھرے وزیراعظم عمران خان زبردست قوت ارادی اور جاں فشاں محنت کے باوجود اپنے ووٹرز کی توقعات پر پورا اترنے میں فی الحال کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکے جس کی وجہ شایدعوام کا حکمران جماعت سے گہری امیدیں وابستہ کرلینا بھی تھا ۔انتخابات سے پہلے بلند بانگ وعدے عوام سے کئے گئے لیکن یہ کہنا درست ہو گا کہ اقتدارمیں آنے کے بعد ہی کپتان کوحکومت کے معاملات و قومی مسائل کا صحیح ادراک ہوسکا اور مافیا ایسے طاقت ور ہیں کہ جو جماعت مہنگائی اور کرپشن کیخلاف جہاد کا عزم کرکے عوام میں مقبول ہوئی اور پھر حکومت میں آنے کے قابل ہوئی کو ابتداء میں ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرونا،، پھر گندم چینی اور پھر پٹرول سمیت کئی بحرانوں نے جکڑلیا اور اس سب کیلئے خان کے اپنے کھلاڑی ہی موردالزام ٹھہرائے گئے۔کپتان کے اپنے ہی وزیر مشیر ، عزیر، دوست اور رشتہ دارحکومت کو چکمہ دیتے رہے اور ذاتی فائدے لیتے رہے ۔
بدقسمتی سے ملک میں میڈیکل کی تعلیم بھی مافیا کی نظر سے نہ بچ سکی ، صحت کا شعبہ انتہائی اہم ہونے کے باعث میڈیکل کی تعلیم ملک میںایک بڑے منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیارکرچکا ہے، جس میں زیادہ تر توجہ اب تک صرف زیادہ سے زیادہ میڈیکل کالجز متعارف کرواکے مال بنانے کی طرف ہی رہی جبکہ میڈیکل تعلیم کا معیار بدسے بدتر ہوتا گیا۔پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے شعبہ صحت ٹاسک فورس کا چیئرمین اپنے ہی کزن ڈاکٹرنوشیروان خان برکی کو تعینات کیا جنہوں نے بعدازاں اصلاحات کے نام پر وزارت صحت کے مختلف شعبوں میں مداخلت شروع کردی ۔
ڈاکٹر برکی کی مداخلت پر حکومت نے 19اکتوبر2019ء کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ہی ختم کردیا اور اس کے 220ملازمین کو رات و رات برطرف کرکے گھر بھیج دیا، کونسل کی جگہ پاکستان میڈیکل کمیشن ایک آرڈیننس کے ذریعے قائم کردیا گیا جو پی ایم ڈی سی ، نیشنل میڈیکل ڈینٹل اینڈ اکیڈمک بورڈ اور نیشنل میڈیکل اتھارٹی پر مشتمل تھا، کمیشن کے قیام کو پرائیویٹ میڈیکل کالجزایسوسی
ایشن کی طرف سے خوب خوش آمدید کہا گیا اور اسے من وعن قبول کرلیا گیا۔تاہم برطرف ملازمین کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے رواں ماہ فروری کے شروع میں پاکستان میڈیکل کمیشن کے قیام کوغیرآئینی قرار دے کرپی ایم ڈی سی کے ساتھ ساتھ برطرف ملازمین کو بھی بحال کرنے کا حکم جاری کردیا، کمیشن کے تمام فیصلے منسوخ کردئیے گئے جن میں دس نئے میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن بھی شامل تھی۔تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ کی طرف سے پی ایم ڈی سی معاملات کو چلانے کیلئے نورکنی ایڈہاک کونسل قائم کردی گئی۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے انتہائی پھرتیاں دکھاتے ہوئے قلیل ترین سٹاف کے ساتھ صرف چار ماہ کے عرصہ میں دس میڈیکل کالجزکو رجسٹریشن جاری کردی حالانکہ ہائیکورٹ نے نئے ملازمین کی بھرتیاں روک دی تھیں اور ملازمین برطرف کئے جانے کے بعد پی ایم سی کے پاس سٹاف تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا لیکن حیران کن طورپرکالجز کی انسپیکشن سمیت دیگر پروسیجر ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرلیا گیا۔ نئے آرڈیننس کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے بھی مسترد کردیا گیااور اسے ڈاکٹر برکی کا ‘برین چائلڈ’ قرار دیا گیا۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ پی ایم سی کے قیام کا مقصد پرائیویٹ میڈیکل کالجز پر پی ایم ڈی سی کا کنٹرول محدود کرنا اور اسے طلبہ کی فیسیںفکس کرنے اور دیگرمعاملات میں کھلی چھٹی دیناہے۔اگر اس کو کام کرنے دیا گیا تو غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے بچے کبھی بھی میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے قابل نہیں رہیں گے اور میڈیکل کی تعلیم صرف امیر گھروں کے بچوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
شعبہ میڈیکل تعلیم میں اصلاحات ناگزیر ہیں لیکن بدقسمتی سے اس کی آڑ میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو نوازنے کی مذموم کوشش کی گئی،اگر اصلاحات مخلصانہ اور سنجیدگی سے کی جاتیں تو اسکے لئے 220ملازمین کو برطرف کیا جانا ضروری نہیں تھا انہی ملازمین سے اصلاحات کے بعد دیگر شعبوں میں بھی کام لیاجاسکتاتھا۔یہیںپر بس نہیں حکومت نے اسے اپنی ناکامی سمجھتے ہوئے مزید زورو شور سے انتقامی کارروائی کا ارادہ کیا اور آرڈیننس لیپس ہونے کے باوجود اسمبلی سے پاس کروانے کی کوشش کی جو اپوزیشن کی طرف سے شدید ردعمل کے باعث ناکام ہوگئی ۔اب حال ہی میں حکومت نے پی ایم سی آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے جوائینٹ سیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا جو کہ آئیندہ چند روز میں متوقع ہے۔ حکومت ہوسکتا ہے اس کو پاس کروانے میں کامیاب ہو بھی جائے لیکن اس سے میڈیکل کی تعلیم میں بہتری پیداکرنے کی بجائے ملازمین سے انتقامی کارروائی ہی مقصود ہو گی کیونکہ وزیراعظم کے عزیز عدالت میں ناکامی کو اپنی عزت وبے عزتی کامسئلہ بنا چکے ہیں۔
وزیراعظم سے گزارش ہے کہ اپنے ارد گرد کالی بھیڑوں کو پہچانیں ، اپنے چیلے بالکوں کے بہکاوے میں
آکر شعبہ صحت کی تعلیم سے کھیلواڑ کو روکیں اور میڈیکل ایجوکیشن سے متعلق معاملات کا ادراک خود حاصل کریں کیونکہ عوام نے عمران خان کو ووٹ دے کر ان پراعتماد کا اظہار کیاہے اور وہی پانچ سال بعد اپنی کارکاردگی پر عوام کو جوابدہ ہوں گے انکے عزیزرشتے دار، دوست بریف کیس اٹھا کر صرف چلتے بنیں گے۔