Official Web

سینٹ اجلاس،ارکان کانیب قوانین میں تبدیلی کیلئے مشترکہ کمیٹی بنانے پرزور

کمیشن میں عدلیہ ،انتظامیہ ،فوج اور دیگر اداروں کی نمائندگی ہونی چاہیے،ربانی

295
Spread the love

اسلام آباد(آن لائن )ایوان بالا میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے نیب قوانین میں تبدیلیوںسے متعلق پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے اراکین نے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے نیب کے حوالے سے فیصلے کے بعدوقت اگیا ہے کہ پارلیمان اپنا تاریخی کردار ادا کرے اراکین نے ملک میںموجود تاریخی مجسموںکو نقصانات پہنچانے والے عناصر کے خلاف کاروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ساجلاس کے دوران عوامی اہمیت پر بات کرتے ہوئے سینیٹر محمد اکرم نے کہاکہ بعض عناصر بدھا کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں یہ ہماری پرانی تہذیبیں ہیں ان کو بچانے اور نقصان سے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے،سینیٹر میر کبیر محمد شہی نے کہاکہ پنجاب یونیورسٹی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباو طالبات کیلئے مخصوص نشستیں 106سے کم کرکے 55کردیا گیا ہے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور مقبوضہ کشمیر کی زمینوں پر قبضوں کی کوششیں کی جارہی ہے انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیرکی ساری قیادت اس وقت جیلوںمیں ہے حکومت کو 5اگست کو یوم مذمت کے طور پر منانے کا اعلان کیا جائے اس موقع پر سینیٹر جاوید عباسی نے کہاکہ خدشہ ہے کہ ملک میں جس تیزی سے ڈالر اڑان بھر رہا ہے اس سے ملکی معیشت کو مذید نقصان پہنچے گانیب کے حوالے سے جو باتیں کی ہیں اس پر ایوان بالا میں بحث کرنے کی ضرورت ہے سینٹر میاں رضا ربانی نے کہاکہ نیب کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں جو باتیں ہوئی ہیں یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اور اس فیصلے کے بعد ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے بعد دیگر عدالتیں بھی آئین کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانتوں کے موقع پر انصاف کریں گے انہوں نے کہاکہ اس احتساب کمیشن میں عدلیہ ،انتظامیہ ،فوج اور دیگر اداروں کی نمائندگی ہونی چاہیے اس سلسلے میں دونوں ایوانوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے او ر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کمیٹی کی تشکیل اور ٹائم فریم دیا جائے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمیئن نہیں ہوں آج کشمیری قربانیاں دیتا جارہا ہے اور پاکستان کے پرچم میں اپنے شہیدوں کو دفناتا ہے مگر پاکستان کا سرکاری ٹی وی کشمیر کو ہندوستان کا حصہ دکھاتا ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت میں موجود مشیروں اور معاونین کا تحریک انصاف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے غیر ملکی شہریت رکھنے والے مشیروں اور معاونین کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہیانہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ نے ملک میں نیب کی جانب سے جاری انتقامی کاروائیوں پر بہت بڑا فیصلہ دیا ہے اور نیب اور حکومت کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرکے انکا منہ کالا کیا ،اس موقع پر قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے میںملک کی تمام سیاسی جماعتیںاور قوم ایک ہی صفحہ پر ہے اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جس سے کشمیر کے مسئلے کو نقصان پہنچے ۔