Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

پاکستانی زبانوں میں ادیبوں کی تخلیق نے خوب رنگ جمایا،شفقت محمود

255
Spread the love

اسلام آباد :وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں پاکستانی زبانوں میں ادیبوں کی تخلیقی فعالیت نے خوب رنگ جمایا ہے اس کے ساتھ غیرملکی ادب کے تراجم نے بھی پاکستانی ادب کو ثروت مند کیا ہے۔ پنجابی زبان میں تراجم کی روایت موجود ہے جس میں بڑے تخلیق کاروں نے بھی کام کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہاراکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام "پنجابی زبان میں عالمی ادب کے تراجم” کے موضوع پرآن لائن سیمینارمیں بطورمہمان خصوصی  خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروین ملک نے ویڈیو لنک کے ذریعہ صدارت خطاب میں کہا کہ ضروری ہے کہ تمام ادارے ترجمے کے حوالے سے خصوصی اقدامات کریں تاکہ ہم جان سکیں کہ دنیا بھر میں کن موضوعات پر بات ہورہی ہے۔ چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کہا ایک زبان سے دوسری زبان میں تخلیقی ادب کا ترجمہ دراصل دوسری تہذیب سے قریبی ربط کا ایک موثر وسیلہ بن چکا ہے۔۔طارق محمود نین سکھ نے کہا کہ پنجابی میں تراجم کی ایک عظیم روایت موجود ہے جو ماضی قدیم کے پنجابی ادب میں بھی ملتے ہیں۔شبیر شاہد نے کہا کہ پاکستان کے اہل قلم تراجم کے ذریعے بیرونی دنیا میں ہونے والے ادبی رجحانات کو سمجھ سکتے ہیں۔مخدوم ٹیپو سلطان نے پنجابی زبان میں تنقیدی اور تحقیقی تراجم کا بین القوامی تناظرمیں جائزہ پیش کیا۔امجد سلیم منہاس نے کہا کہ کسی بھی زبان کی ترقی کے لئے ترجمے کی اہمیت مسلمہ ہیں۔فیصل اقبال اعوان نے کہا کہ اکیسویں صدی تراجم کے لحاظ سے بہت اہم ہے ان بیس سالوں میں بڑی تعداد میں بین الاقوامی ادب کی اہم کتابوں کے پنجابی تراجم ہوئے ہیں۔