Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

پاکستان ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی کو محفوظ ترین بنانیوالا ملک

جنیدیوسف

253
Spread the love

پاکستان ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی کو سب سے زیادہ محفوظ بنانے والا ملک بن گیا۔ پاکستان نے ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی میں بھارت کو 6 پوائنٹس پیچھے چھوڑ دیا۔پاکستان کے جوہری اثاثوں کے تحفظ کی ضمانت عالمی اداروں نے بھی دے دی ہے۔ این ٹی آئی نیوکلیئر سکیورٹی انڈیکس نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان ذمہ دار ترین ریاست ہے۔نیوکلیئر سیکیورٹی انڈیکس رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت میں موازنہ کیا جائے تو پروگرام کے تحفظ سے متعلق درجہ بندی میں پاکستان33،بھارت38ویں نمبرپر ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان نے نئے ضوابط لاگو کر کے سکیورٹی کو موثر بنایا، دنیا بھر میں پاکستان نے ایٹمی اثاثوں کی سیکیورٹی میں 19 واں نمبر حاصل کیا۔عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے درجے میں 7 پوائنٹس کا اضافہ کیا، پاکستان کا دنیا بھر میں ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی میں سکور 47رہا جبکہ بھارت صرف 41پوائنٹس حاصل کرسکا ہے ۔گلوبل نارمز کیٹیگری میں بھی پاکستان کا پلس ون درجہ بڑھا، تنصیبات کے تحفظ میں بھی بھارت کے 53پوائنٹس ہیں جبکہ پاکستان نے 58سکور کیے۔ امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید نے رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔ گزشتہ سال امریکی جوہری ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کے کے مطابق جوہری مواد کے عدم تحفظ کے حوالے سے خصوصاً بھارت سرفہرست ہے جو دنیا کو سب سے زیادہ متاثرکرسکتا ہے۔بھارت کی جوہری تنصیبات عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ کہیں تو ان کی ساخت میں گڑبڑ ہے تو کہیں ان کا وجود گردو پیش کی آبادی کیلئے خطرہ ہے۔ اسی لئے بھارتی جوہری ری ایکٹروں سے تابکار مادوں کا اخراج عام بات ہے۔ 1984ء سے لے کر اب تک بھارت میں یورینیم کی چوری کے تقریباً 160 کیس رجسٹر کرائے جا چکے ہیں۔ 1986 میں مدراس اٹامک پاوراسٹیشن کے ایٹمی ری ایکٹر میں دراڑیں پڑ گئیں جسے نہ صرف آئی اے ای اے سے چھپایا گیا بلکہ بھارتی عوام اور پارلیمنٹ کو بھی اس سے بے خبر رکھا گیا۔ اُصولی طور پر اس پاور سٹیشن کو بند کر دیا جانا چاہئے تھا لیکن عجلت میں غیر معیاری طریقے سے مرمت کر کے پلانٹ کو چالو رکھا گیا۔ اس مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں دو سال بعد 1988ء میں ری ایکٹر سے بھاری پانی کا اخراج شروع ہو گیا۔ پلانٹ میں تابکاری پھیلنے سے بے شمار ملازمین متاثر ہوئے اور مئی 1991ء میں ری ایکٹر کے اندر زوردار دھماکہ ہوا۔ ٹنوں کے حساب سے پانی پلانٹ میں ہر طرف پھیل گیا۔ اردگرد موجود سینکڑوں افراد تابکاری کے اثرات کی تاب نہ لاتے ہوئے لقمہ اجل بن گئے۔ چار سال تک یہ پلانٹ مکمل طور پر تباہ حال کھنڈر کا نمونہ پیش کرتا رہا۔ نیو دہلی سے 180 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع ناروڑااٹامک پاور پلانٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کی شدت نے نصف سے زیادہ مشینری کو پگھلا دیا۔ اس کی وجہ بھی پلانٹ کی تنصیب میں ناقص میٹریل کا استعمال تھا۔بھارتی شہر کرناٹک میں ایٹمی ری ایکٹر میں دراڑیں پڑ گئیںجس کے نتیجے میں تابکاری پھیلنے سے بے شمار ملازمین متاثر ہوئے۔اس پر مستزادیہ ہے تابکار پانی قریب کے کنویں میں چلا گیا جس سے قریبی دیہات کے رہائشی زہریلا پانی پینے سے خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوگئے۔ گجرات میں واقع کاکڑا پور ایٹمی پاور پلانٹ سے تابکاری کا اخراج ہوا۔پلانٹ کا کنکریٹ سے تعمیر کردہ گنبد اپنے ہی وزن کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین بوس ہو گیا۔صوبہ مہاراشٹر میں ساحل سمندر کے قریب تری پور ایٹمی پلانٹ واقع ہے۔ نہ صرف اس کے اردگرد موجود تین ہزار گاؤں تابکاری سے آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیںبلکہ سمندری حیات بھی تابکاری اثرات سے محفوظ نہیں۔ اسی طرح حیدر آباد میں نیوکلیئر فیول کمپلیکس میں دھماکے کے بعد ”آئی اے ای اے” نے بھارت کے ایٹمی بجلی گھروں کے تفصیلی معائنے کیلئے بھارت سرکار سے رابطہ کیا تو بھارت نے اسے مداخلت قرار دیتے ہوئے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر بھارت کے تمام ایٹمی بجلی گھروں کے بارے میں آئی اے ای اے نے رپورٹ جاری کر دی کہ ”یہ سب غیر محفوظ اور انسانی و قدرتی حیات کیلئے انتہائی خطرناک ہیں’ ان بجلی گھروں کے گرد قانونی ضابطوں کے مطابق کم از کم پانچ کلومیٹر تک انسانی آبادی اور کھیتی باڑی نہیں ہونی چاہئے جبکہ بھارت نے ان عالمی قوانین کی کبھی پرواہ نہیں کی۔