Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

وہ جس کو چاہے عزت دے

احسان الحق باجوہ

270
Spread the love

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کے حوالے سے جاری فیصلے میں جسٹس مقبول باقر نے انگریز فلسفی اور سیاسی اکانومسٹ جان سٹورٹ مل کا یہ قول لکھا ہے:”ایک ریاست جو اپنے عوام کو چھوٹا کر دکھائے تاکہ وہ اس کے ہاتھوں میں اچھے مقاصد ہی کے لیے سہی ا?لہ کار بنے رہیں، یہ جان لے گی کہ چھوٹے آدمیوں سے کوئی بڑا کام نہیں لیا جا سکتا”۔قبل ازیں 17 مارچ کوبھی انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ’ ‘یا تو نیب خراب ہے یا اہلیت کا فقدان ہے، دونوں ہی صورتحال میں معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ نیب کے پاس ضمانت خارج کرنے کی کوئی بنیاد نہیں”۔اور اب عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ تمام شواہد کو دیکھتے ہوئے چیئرمین نیب نے اس معاملے میں مزید کارروائی کرنے کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا وہ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ اگر ملزمان کے خلاف لگائی گئی شکایات اس کی بنیاد تھی تو یہ واضح نہیں کہ شکایات میں الزامات کیا تھے اور نیب کے سامنے ایسی کیا معلومات پیش کی گئی تھیں کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ کمپنی کی مینجمنٹ کے اقدامات پر قومی احتساب آرڈینینس کے سیکشن 9 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ نیب کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں تھے جو درخواست گزار بھائیوں کو کمپنی سے جوڑتے ہوں اور جس کی بنا پر کمپنی کے کسی بھی غلط اقدام کی وجہ سے ان کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی وجہ بنے ہوں۔ کمپنی کے خلاف ریفرنس میں 5 الزامات لگائے گئے لیکن نیب نے درخواست گزاروں سعد رفیق اور سلمان فریق سے ایک بھی سوال اس حوالے سے نہیں کیا جبکہ ان سے طویل دورانیے پر مبنی پوچھ گچھ کئی مرتبہ کی گئی جس کا آغاز کم از کم مارچ 2018 میں ہو چکا تھا۔ نیب نے درخواست گزاروں سے طلبی کے نوٹسز کے ذریعے ان چند رقوم کے بارے میں پوچھا جو انھیں کمپنی کی جانب سے کسی زمین کے لین دین میں ملی تھی۔ یہ ذاتی نوعیت کا لین دین تھا جس سے عوام یا حکومت کے مفاد پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی یہ کمپنی کے شکایت کنندہ گاہکوں کو پلاٹوں کے مبینہ طور پر قبضہ نہ دینے یا رقوم واپس نہ کرنے کا باعث بنا۔ نیب اب تک درخواست گزاروں کے کمپنی کے بطور ممبر، پارٹرنر یا ڈائریکٹر تعلق کو ثابت نہیں کر سکا ہے۔ درخواست گزاروں کے خلاف تحقیقات، ان کی گرفتاری اور 15 ماہ کے طویل عرصے تک ان کی حراست، بادی النظر میں احتساب آرڈیننس سے ہم آہنگ یا مطابقت نہیں رکھتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نیب نے دوسروں کو ذلیل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے خود ہی ذلت کا سامنا کرنا پڑا اور جن کو مہینوں، برسوں تک بلا ثبوت بند کیا اور چاہا کہ وہ بیعزت ہوں وہ پہلے سے زیادہ عزت دار بن کر نکلے۔پیراگون کرپشن کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی ایک ایک سطر اْس ظلم اور زیادتی کی گوائی دے رہی ہے جو نیب کا گزشتہ دو دہائیوں سے وطیرہ رہا۔یہ ادارہ پہلے دن سے ہی متنازعہ ہے۔ یہ سیاسی مخالفین کو دبانے اور اْنہیں نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہے، اسے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے بْرے طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے، نیب وفاداریاں تبدیل کرانے، سیاسی جماعتوں کو توڑنے، مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے استعمال ہوتا آ رہاہے، اس کا احتساب یکطرفہ ہے۔عوام کی نظر میں نیب کی ساکھ مجروع ہو چکی۔ نیب مالی اسکینڈلز میں ملوث حکومتی لوگوں کے خلاف کارروائی سے ہچکچاتا ہے جبکہ اپوزیشن کے لوگوں کو گرفتار کرکے بغیر کسی معقول جواز اور ثبوت کے مہینوں اور برسوں کے لیے جیل میں ڈال دیتا ہے۔اس ادارہ کو یا تو ختم کیا جانا چاہئے یا پھر اس کے وہ اختیارات، خاص طور پر محض الزام کی بنیاد پر گرفتار کرنے کے اختیار کو ختم کیا جانا چاہئے جس کے لیے سپریم کورٹ ہی وہ ادارہ ہے جو ایسا کر سکتا ہے کیوںکہ سیاستدان اور پارلیمنٹ ثابت کر چکے کہ وہ اس قابل نہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے صحیح معنوں میں نیب کی سرزنش کی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کا ایک تاریخی فیصلہ ہے اور نیب اور حکومت کے گٹھ جوڑ کے خلاف الزامات کی ایک فہرست ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نیب کو حذبِ اختلاف کے خلاف ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔اب یہ حزبِ اختلاف پر ہے کہ وہ اسے کسی مستند جگہ پر فیصلہ کن طور پر استعمال کرتے ہیں اس سے بہتر موقع انھیں نہیں ملے گا۔وہ دن دور نہیں جب خواجہ برادران کی طرح میاں نواز شریف. شہباز شریف. مریم نواز. خواجہ برادران. رانا ثناء اللہ. شاہد خاقان عباسی. اور احسان اقبال. بھی ان شا اللہ جلد عدالت سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔جس طرح خواجہ سعد رفیق پر تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے ہیں ن لیگ کے باقی تمام لیڈر بھی با کردار ثابت ہو نگے۔