Official Web

!دہرے کردار

ڈی بریفنگ/شمشاد مانگٹ

248
Spread the love

نیب اور سیاستدانوں کے درمیان اس وقت دست بدست لڑائی ہورہی ہے ،پی ٹی آئی کے سوا تقریبا تمام سیاسی جماعتیں اس وقت نیب کیخلاف یک زبان ہو کر بول رہی ہیں۔نیب نے جتنے زخم مسلم لیگ(ن)اور پیپلزپارٹی کو لگائے ہیں اب تک اتنے ہی زخم لگانے کیلئے مسلم لیگ (ق پر حملہ آوردکھائی دیتا ہے ۔اگرچہ سپریم کورٹ بھی نیب کے طرز تفتیش اور طرز انتقام پر بول اٹھی ہے مگر نیب حکام فی الحال ٹس سے مس ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ۔
خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلیمان رفیق کیس میں سپریم کورٹ نے نیب کو مکمل جانبداری اور سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ قرار دیدیا ہے ۔کسی بھی تہذیب یافتہ ملک میں عدالت عظمی کا ایسا فیصلہ آتا تو اب تک اس ادارے کا چیئرمین اپنی نگرانی میں تالے لگا کر گھر جاچکا ہوتا۔چونکہ چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال سپریم کورٹ سے ہو کر ہی اس عہدے تک پہنچے ہیں اس لئے انہیں علم ہے کہ عدالت عظمی کے فیصلے آتے ہیں اور پھر گرد تلے دب جاتے ہیں اور ان فیصلوں پرعملدرآمد نہیں ہوپاتا۔

عدالت عظمی نے بالکل درست کہا ہے کہ نیب سیاسی جماعتوں کا بازو مروڑنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہورہا ہے لیکن فاضل عدالت کو چاہیے تھا کہ چیئرمین نیب کو اپنے اعلی عہدیداروں سمیت طلب کرتے اور انہیں پوچھتے کہ نیب کا غیر جانبدارانہ کردار کیوں مجروح ہوا ہے ؟

سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی یہ نشاندہی کردے کہ آج بہت گرمی ہے لیکن گرمی کے سدباب کے لئے خاموش رہے ۔نیب کے جانبدارانہ کردار اور سیاسی مقاصد بارے پورے پاکستان کو علم ہے مگر ضرورت یہ تھی کہ سپریم کورٹ اس مرض کا علاج کرتی اور چیئرمین نیب کو ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہو کر تفتیش کرنے اور چالان تیار کرنے کا راستہ دکھاتی۔تفتیش نیب کے ذریعے ہو یا پھر ایف آئی اے اور پولیس کی ہو ان میں ایک جیسی کمزوریاں اور ایک جیسے کردار ہی دکھائی دیتے ہیں۔

مذکورہ بالا تینوں ادارے ہر طاقتور کیخلاف تفتیش کا رخ ہی موڑ دیتے ہیں اور ہرکمزور کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں ۔اس لئے بہترین احتساب اور کرپشن کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ بہترین دماغوںاورجرات مند لوگوں کا انتخابات کیا جائے ۔حکومت نے زیر التوا ریفرنسز کو جلد نمٹانے کے لئے 120 نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔حکومتی اکابرین کو سوچنا ہو گا کہ ان عدالتوں کے قیام سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے یا صرف زیر التوا ریفرنسز کو جلد نمٹاکر بے گناہوں کو ملزم بنا کر جیلوں میں پھینک دیا جائے گا ۔

پاکستان میں عدالتوں کی پہلے بھی کمی نہیں ہے البتہ انصاف خال خال ہی ملتا ہے ۔ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان اور اعلی عدالتوں کے جج صاحبان بارہا مرتبہ اس کمزوری کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ کمزور تفتیش ہے ۔

سرعام قتل ہونیوالے افراد کے ملزمان پولیس کی طرف سے جان بوجھ کر ٹھوس ثبوت اکٹھے نہ کیے جانے پر باعزت بری ہو جاتے ہیں اور جھوٹے گناہوں کی گواہی پر بے گناہوں کو پھانسی گھاٹ تک جاتے دیکھا جاچکا ہے ۔اس لئے عدالتوں کا قیام ضرور عمل میںلایا جائے لیکن اس سے پہلے ہر سطح پر تفتیش کے کام کو مئوثر بنایا جائے۔

120 نئی عدالتوں کے قیام سے کچھ لوگوں کو نوکریاں ضرور مل جائیں گی اور وہ عزیز و اقارب میںمعتبر بھی ہو جائیں گے لیکن انصاف کے حقداروں کو اگر انصاف ہی نہ مل سکا تو پھر یہ عدالتیں بھی قومی خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہوں گی۔پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ نیب اپنا اصل کام کرنے کی بجائے ”سیاسی امور” کیلئے کام کرتا ہے لیکن یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے لوگ نیب کو اس کے اصل کردار تک محدود کرنے کے لئے کیوں اپنا کردارادا نہیں کرتے ؟صرف نیب ہی نہیں ہمارے تمام اداروں کا دہرا معیار ہے اگر سب ادارے اپنے اپنے اصل کردار تک محدود ہو جائیں تو پھر کسی کواعتراض کرنے کا موقع ہی نہ ملے ۔نیب کی یکطرفہ کارروائیوں کے بوجھ تلے دب کر چیخنے چلانے والے سیاستدان اگر چاہیں تو پارلیمنٹ کے ذریعے نیب کا قبلہ درست کرسکتے ہیں مگر ایسا کرنے سے یہ سب لوگ گھبراتے ہیں ۔ہر ایک کی اپنی اپنی کمزوری اور اپنی اپنی مجبوری ہے۔