Official Web

تحریک عدم اعتماد کا کوئی امکان نہیں

کنور محمد دلشاد

256
Spread the love

 پاکستان میں اختیارات کی رسا کشی جاری ہے ملک کے اہم ادارے چیف جسٹس آف پاکستان اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے گورننس کے بارے میں ریمارکس کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ عزیر بلوچ اور دیگر جرائم پیشہ بااثر افراد کی جے آئی ٹی متنازعہ اپنے اپنے مفادات کے تحت بنا دی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے جمہوریت کو خطرہ رہتا ہے کہ سیاسی مفکرین کا موقف ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والی شخصیات ان سے مایوس ہو چکی ہیں لیکن انہیں ابھی متبادل نہیں مل رہا ہے۔ ان حالات میں اٹھارویں ترمیم میں اہم تبدیلیاں لانے کے لئے پس پردہ خاموشی سے حکمت عملی کا روڈ میپ تیار کیے جا رہا ہے جن دنوں جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف کے مابین شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے جنرل پرویز مشرف نے آئندہ کے لئے روڈ میپ اپنے خصوصی دوستوں کے ذریعے خاموشی سے تیار کر رکھا تھا اور میں نے اپنی سرگزشت میں ان تمام واقعات پر سے پردہ اٹھا دیا ہے جو عنقریب منظرِ عام پر آنے والی ہے۔ متبادل قیادت ہمیشہ نظروں سے اوجھل رہتی ہے اور اچانک ماحول تبدیل ہو جاتا ہے ان حالات میں ملک کا جمہوری نظام مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہا ہے ۔ صوبے 18ویں ترمیم کے بعد بادی النظر میں خودمختار ہیں مگر نااہلیت اور کرپشن کی وجہ سے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے عوام کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے اور ٹیلی ویژن چینلز میں آکر عوام کی بے بسی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ پیشہ ور ترجمانوں کی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ صدارتی نظام کے فوائد اور خامیوں پر مبنی اصلاحات پر خاموشی سے کام ہو رہا ہے اور انتخابی اصلاحات کے اہم اور پوشیدہ آئینی شقوں پر بھی از سر نو کام ہو رہا ہے ۔1979اور 1980 میں چیف جسٹس حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میرے پاس موجود ہے جس میں انہوں نے صدارتی اور ملک کے انتخابی نظام کا جمالی خاکہ پیش کیا تھا اس رپورٹ سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالہی، مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی رہنماں میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک لانے کا دم خم نہیں ہے پاکستان کی تاریخ میں کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کبھی کامیاب نہیں ہوئی غلام محمد گورنر جنرل سے صدر آصف علی زرداری اور نوازشریف تک کسی بھی وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کی بجائے غیر آئینی طور پر بر طرف کرنے یا پھر ان سے استعفی لینے کا رواج رہا لیکن پاکستان کی تاریخ میں یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو عدالت عظمی کے فیصلے کی بنا پر فارغ ہونا پڑا وزیراعظم سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ماضی میں روایات رہی ہے۔ 1990 کے اوائل میں بے نظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش بھی ناکام ہو گئی تھی اب اگر اپوزیشن جماعتیں عمران خان اور اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتی ہیں تو اس کے حق میں 172 ووٹوں کی اکثریت ثابت کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہوگی . بظاہر اپوزیشن وزیر اعظم اسپیکر قومی اسمبلی یا دونوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر غور کر رہی ہے جو کہ موجودہ صورتحال پر ایسی تحریک پیش کرنا مشکل ترین فیصلہ ہو گا آئین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 4 کے تحت وزیراعظم کو 172 کی اکثریت حاصل کرنا لازمی تصور کیا جاتا ہے آئین اور پارلیمنٹ کے ضابطہ کار کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا طریقہ کار موجود ہے آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے ان کے کل ارکان کی تعداد کے 20 فیصد ارکان کے دستخط ضروری ہیں۔ اگر تحریک عدم اعتماد ارکان کی اکثریت کی حمایت سے منظور ہوگئی تو وزیراعظم کو سبکدوش ہونا پڑے گا۔ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا منظور ہونا بڑا دشوار گزار عمل ہے اور اپوزیشن کی بعض جماعتیں پس پردہ اہم مقدس شخصیات سے رابطے میں ہیں اور بین الاقوامی حالات مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال لیبیا میں بیرونی مداخلت کی بڑھتی ہوئی خبریں عالمی امن کے لیے تشویش ناک ہیں ان حالات میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کا امکان نہیں ہے ان کی حکومت کو آئندہ چند مہینوں میں اندرونی خطرات کا سامنا ہوگا۔پاکستان کا بدترین معاشی بحران ریاستی اداروں کی بنیادیں ہلا رہا ہے اس کے ساتھ اگر سیاسی بحران کو سیاسی قوتوں نے اب تک جو حاصل کیا ہے وہ بھی ان کے ہاتھ میں نہیں رہے گا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں وزیراعظم عمران خان کی سبکدوشی کے لئے کوئی آئینی اور جمہوری طریقہ اختیار نہ کریں ان کے پاس آئینی راستہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لے آئیں اگر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا یقین نہیں ہے تو پھر 2023 کے الیکشن کا انتظار کریں۔ موجودہ کرونا وبا نے عمران خان کو احتجاجی تحریک سے بچائے رکھا ہوا ہے اور عوام بھی اب سیاسی رہنماں کے مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھے گی۔ اس لیے اگر اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو اس حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے۔ آئینی اور جمہوری طریقے سے جو بھی حالات پیدا ہوں گے نہ صرف سیاسی قوتوں کے ہاتھ میں رہیں گے بلکہ ان معاملات پر ان کی گرفت مضبوط ہوگی پاکستان میں موجودہ حالات میں نئے انتخابات کا مطالبہ نہیں ہوسکتا۔ اپوزیشن اپنا موقف اشارتا جن حلقوں کی طرف دیکھ رہی ہے ایسے ہی اشارتا شیخ رشید احمد نے کھلے الفاظ میں بیان کردیا ہے کہ وہ اور شہباز شریف ایک ہی پارٹی کا حصہ ہیں شیخ رشید کرونا کے حصار سے باہر آگئے ہیں اور ان کے بیڈروم پر ان دنوں شاہ محمود قریشی براجمان ہوچکے ہیں اور عنقریب شہباز شریف بھی ساتھ والے روم میں کرونا وائرس کا کورس پورا کریں گے اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر اپوزیشن کوئی آئینی یا سیاسی آپشن اختیار کرتی ہے تو خود پاکستان تحریک انصاف اس کا آئینی اور سیاسی طریقے سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم کے غیر منتخب مشیران اور معاون خصوصی نے سیاسی اور نظریاتی عناصر کی شرح بہت کم کر دی ہے۔ ان کے 18 ارکان دوسری طرف دیکھ رہے ہیں ان قوتوں پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں کیوں کہ وہ صرف عمران خان کو نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کے معاملات کو دیکھیں گے اور آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔اسلام آباد میں مندر کی تعمیر تکنیکی بنیاد پر روک دی گئی ہے اس کا پس منظر یوں ہے کہ وزیراعظم نواز شریف جو اپنے دور حکومت میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر مسلسل حملے کر رہے تھے انہوں نے 2017 میں حکومت کی طرف سے پاکستان ہندو کونسل کی ایما پر مندر کے لیے چار کنال زمین الاٹ کر دی تھی مگر سیاسی حالات پنامہ کیس کی سماعت اور نا اہلیت کی بنیاد پر تعمیر کا کام شروع نہ ہو سکا۔ الیکشن کے شیڈول کی وجہ سے مندر کی تعمیر نہ ہوسکی،اب اس مندر کی مخالفت پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہی نے بھی اعلانیہ کر دی ہے۔ اس کے سیاسی محرکات بڑی اہمیت کے حامل ہوں گے وفاقی حکومت نے ان کے موقف کو مسترد کردیا تو پاکستان مسلم لیگ ق عمران خان کی حکومت کی اتحادی نہیں رہے گی اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی راہ ہموار نہیں ہو گی۔