Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

راول ڈیم پرنیول فارم:تفصیلی جواب جمع نہ کرنے پر عدالت برہم

 ڈیپوٹیشن پر آئی لیڈی ڈاکٹروں کو واپس بھیجنے کے شوکاز پر کارروائی سے روک دیاگیا

271
Spread the love

اسلام آباد(آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے راول جھیل کنارے نیول فارم کی تعمیر کیخلاف دائر درخواست میں نیوی کی جانب سے تحریری جواب جمع نہ ہونے پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے ہدایت کی ہیکہ آئندہ سماعت تک کلب کی تعمیر سے متعلق تفصیلی جواب جمع کرایاجائے۔گذشتہ روز سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ آپ کو جواب دینے کا کہا تھا کہ بتائیں کس قانون کے تحت آپ کلب بنا یا چلا سکتے ہیں؟،اس عدالت نے کہا تھا کہ کابینہ کو بتائیں اسلام آباد میں قوانین پر عمل نہیں ہو رہا،کسی کو آگے سفارشات بھیجنے کے لئے نہیں کہا تھا، ایک عمارت بنی ہی غیر قانونی ہے اس پر سی ڈی اے اب کیا کر لے گا؟،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ معاملے پر اٹارنی جنرل کی رائے بھی مانگی گئی ہے ،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ کسی غریب کا کھوکھا گرایا جائے تو اس پر کیا آپ اٹارنی جنرل کی رائے مانگیں گے؟مسلح افواج کی وردی ہمارے لئے قابل عزت اور لائق احترام ہے،اس وردی کی لاج رکھنا مسلح افواج کا ہی کام ہے،عدالت نے 7 اگست کو نیول چیف کو کلب کی تعمیر سے متعلق تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو بلکسر انتظامیہ کیساتھ ملکر ریچھوں سے متعلق فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔گذشتہ روزچڑیا گھر سے عدالتی احکامات کے باوجود ریچھوں کی عدم منتقلی کے کیس پر سماعت کے دوران بلکسر میں قائم جانوروں کی پناہ گاہ کے منتظم ڈاکٹر فخر عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریچھوں کی حفاظت کا انتظام نہ ہونے اور عدم منتقلی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ بیرون ملک سے چڑیا گھروں کے لئے چالیس زرافے لائے گئے جو سب مر چکے ہیں،ہمارے سر شرم سے جھک جانے چاہئے۔دریںاسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں ڈیپوٹیشن پر آئی لیڈی ڈاکٹروں کو واپس صوبوں میں بھیجنے کے شوکاز نوٹس کے خلاف درخواست پر وزارت صحت کو درخواست گزاروں کے خلاف آئندہ سماعت تک کسی بھی تادیبی کارروائی سے روک دیا