Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

ریاستی زمین پرائیویٹ سوسائٹی کو استعمال کیلئے دی گئی:چیف جسٹس

سوسائٹی پر لوگوں کی زبردستی بے دخلی کا الزام ہے،علیم خان سوسائٹی کیس میں ریمارکس

240
Spread the love

اسلام آباد:صوبائی وزیر علیم خان کی نجی ہاسنگ سوسائٹی کے سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے کے کیس پر سماعت ہوئی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ ریاست کی زمین پرائیویٹ سوسائٹی کو استعمال کے لیے دی گئی، نجی ہائوسنگ سوسائٹی کے خلاف لوگوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا بھی الزام ہے، عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے سے 13 اگست تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لیاسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ بتائیں ریاستی زمین پر سوسائٹی کو سڑک بنانے کی اجازت کیوں دی گئی؟ پرائیویٹ سوسائٹی کے اکثریتی شیئرز کا مالک کون ہے؟ جس پر وکیل نے عدالت میں کہا کہ پارک ویو ہاسنگ سوسائٹی کی اکثریتی شیئر ہولڈر علیم خان کی اہلیہ ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ علیم خان کون ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ علیم خان پی ٹی آئی کے ایم پی اے اور صوبائی وزیر ہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟ عدالت کیوں نہ یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوا دے؟ کیوں نہ انکوائری کمیشن کی تشکیل کیلئے لکھا جائے، اگر ایسا ہے تو پھر کمزور کے کھوکھے گرانے کی اجازت بھی نہیں دیں گے، سی ڈی اے ریاست کی زمین کیسے دے سکتا ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے نے خود اعتراف کیا کہ ایسا کرنا بورڈ کی غلطی تھی، سیشن جج کی رپورٹ پڑھیں کہ قبضہ مافیا کی وجہ سے کرائم ریٹ میں اضافہ ہوا،عدالت آئے روز کہتی ہے کہ اسلام آباد میں قانون کی حکمرانی نہیں، علیم خان کی ہاوسنگ سوسائٹی کی متنازع جگہ زیر استعمال نہ لانے پر حکم امتناع برقرار رہے گا،عدالت نے ہدایت کی کہ زمین مالکان کو تحفظ فراہمی کیلئے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر تحفظ دیں۔