Official Web

حوصلہ،ہمت اورجیت

سفر شوق /نعیم اللہ خان

229
Spread the love

 ء 1973کی عرب اسرائیل وار میں شام ،لبنان، اردن اور مصر کی افواج نے اسرائیل کا محاصرہ کیا ہوا تھا اسرائیل کو جانے والے تمام زمینی راستے بند تھے، ایسا معلوم ہورہا تھا کہ کسی وقت بھی اسرائیلکو صفحہ ہستی سے مٹا دیاجا ئیگا عرب رہنمائوں کو اپنی جیت نظر آرہی تھی یاسر عرفات ،شاہ حسین جیت کا کریڈٹ لینے کیلئے خود جنگ میں شریک تھے عرب لیگ اور امت مسلمہ کے تمام پلیٹ فارم عربوں کی پشت پناہی کر رہے تھے اس صورتحال کے باوجود مادام گولڈا میر اسرائیل کی وزیر اعظم پر امید تھیں اسرائیل نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی صورت پسپائی اختیار نہیں کریگا اسرائیلی افواج کا حکم دیا گیا کہ وہ خون کے آخری قطرہ تک لڑیں  مادام نے اپنی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی تقریر میں اسرائیلی عوام کو ہر طرح موت کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی اور آخری سانس تک لڑنے کا  عندیہ دیا اس موقع پر امریکہ سمیت دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کو ثالثی اور بھر پور امداد کی پیشکش کی گئی لیکن مادام گولڈا نے کسی ملک کی ثالثی کی اور امدادکو قبول کرنے سے انکار کردیا اس نے واضح اعلان کیا کہ اسرائیل کسی بھی ملک سے کسی قسم کی امداد قبول نہیں کرے گا باالآخر اسرائیل عرب ممالک کے مثالی اتحاد کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور اس نے اعلان کیا کہ وہ جنگ جیت چکا ہے۔ جنگ کی جیت کے اعلان بعد اسرائیلی وزیر اعظم مادام گولڈا نے عرب اسرائیل جنگ بارے ایک صحافی کو تاریخی انٹرویو دیالیکن اس نے شرط عائد کی کہ اس کا یہ انٹرویو اس کی موت کے بعد شائع کیا جائے کیونکہ اگر یہ انٹرویو اس کی زندگی میں شائع ہوا تو یہودی مذہبی پیشوا اس کا جینا محال کردیں گے مادام گولڈا  نے اس انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ کون سا ہتھیار تھا جس کے ہوتے ہوئے اس نے محصور اسرائیل میں متحدہ عرب اتحاد کا مقابلہ کیا اور اپنی افواج اور عوام کی ہمت بڑھائے رکھی۔مادام گولڈا کے جواب پر صحافی حیران اور پریشان ہوا مادام نے کہا ” کہ میں نے عرب وعجم کے حکمران رسول ۖ کی سیرت  کا مطالعہ کیا  آپ ۖ یقین کی دولت سے مالا مال تھے جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوئے اس وقت  ان کے اپارٹمنٹ میں کوئی خزانہ نہیں تھا کوئی خوراک کا ذخیرہ نہیں تھا کوئی مال و متاع نہیں تھا سونا چاندی تھی اور نہ ہی تجوریاں بھری ہوئیں تاہم ان کے کمرے میں9سے زائد اچھی دھات کی تلواریںضرور موجود تھیں گویا وہ اپنی آخری سانس تک میدان جنگ میں جانے کیلئے تیار تھے بس میں نے فیصلہ کر لیا کہ کامیاب جنگی حکمت عملی کا پہلا سبق یہ ہے کہ میدان جنگ کیلئے تیار رہا جائے اور اپنی عوام اور فوج کو یہ باور کرایا جائے کہ ہمیں آخری سانس تک لڑنا ہے میری یہ حکمت عملی کا میاب رہی جب میں نے بار بار یہ بات دہرائی کہ ہمیں اپنی آخری سانس تک لڑنا ہے پھر عوام اور فوج میں یہ بات رچ بس گئی کہ ہمیں صرف جنگ کے ذریعہ اپنا دفاع کرنا ہے مجھے بات سمجھ میں آگئی کہ جنگ وسائل سے نہیں حوصلہ اور ہمت سے لڑی جاتی ہے”افسوس کی بات ہے کہ غیر مسلم کو اس بات کا یقین ہے کہ سرکار کائنات ۖکی حکمت عملی کامیاب تھی کامیاب ہے اور کامیاب رہے گی لیکن محمد ۖکے پیروکار کو یقین نہیں
یہ سنہ2000 ء کا واقعہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم کے ذریعہ سرکس میں شیر، چیتا اور دیگر جانوروں کی نمائش اور کھیل پر پابندی عائد کردی ،سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح کیا کیونکہ سرکس میں جانوروں کی نمائش اور کھیل کی وجہ جنگلی حیات کے بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیںلہذااس کھیل اور نمائش پر فی الفور پابندی عائد کی جارہی ہے جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے حکم پر عملدرآمد کیلئے سرگرم ہوگئے، سرکس مالکان کی ایک نہ سنی گئی حتی کہ اس بارے سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد کردی ،مداریوں اور سرکس کا کام ٹھپ ہوکر رہ گیا کسی طرف سے امید کی کوئی کرن نظر نہ آرہی تھی سرکس مالکان نے فنکار وں اور عملہ کو فارغ کرنا شروع کردیا بڑے بڑے فنکار بے روزگار ہوگئے کچھ عرصہ بعد سرکس مالکان کیلئے شیروں کو پالنا بھی مشکل ہو گیاجنگلی حیات کے ماہرین کہتے ہیںکہ ایک شیر روزانہ 10سے15تازہ کلو گوشت کھاجاتا تھا10شیروں کی خوراک 3من زائد تھی صورتحال کو پیش نظر سرکس مالکان نے فیصلہ کیا کہ شیروں کو اونے پونے دام فروخت کردیا جائے تاکہ روزانہ کے اخراجات سے چھٹکارا حاصل کیا جائے بار بار تشہیر کے باوجود ان شیروں کا کوئی خریدار نہ ملا سر کس کی بندش کی وجہ سے سرکس مالکان کے اثاثے تک فروخت ہوگئے انہیں اپنے اور اپنے خاندان کے روز مرہ اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہو گیاتھاشیر کو سنبھالنا اس ایک مشکل کام تھا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا بادل ناخواستہ ان 10شیروں کو بنگال کے جنگلوں میں چھوڑدیاگیا تاکہ شیر اپنی خوراک کا بندوبست خودکرلیں اس کام کیلئے بڑے حوصلے اور ہمت کی ضرورت تھی  لیکن  اس کے علاوہ اس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا برسوں کی دوستی قربان کردی گئی اور ایک بڑی انویسٹمنٹ کو دائو پر لگا دیا گیا ایک عرصہ سے پنجرے میں قید شیروں کو آزادی دیدی گئی ، بھارتی سپریم کورٹ میں نئے چیف جسٹس کی تعیناتی ہوئی جس کے بعد سرکس مالکان ایک بار پھر عدالت عظمیٰ کے دروازہ پر دستک دی استد عا کی کہ انہیں دیوالیہ ہونے سے بچا جائے اور روزگار کا موقع فراہم کیا جائے نئے چیف جسٹس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرکس میں شیراور چیتے سمیت دیگر جانوروں کے نمائش اور کھیل کی مشروط اجازت دیدی ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے نئے حکم کے بعد سرکس شو کی بحالی کا کام تیزی سے شروع ہوگیا فنکاروں کو واپس بلا لیا گیا برطرف ملازمین کو بھی پروانے جاری کر دئیے گئے خزاں میں گویا ایک بار پھر بہار آئی سارے کام مکمل ہو گئے لیکن شیر کہاں سے لائے جائیں ؟ ایک حل نکال لیا گیا کہ بنگال کے جنگل سے اپنے ہی شیروں واپس لایا جائے اب سرکس سٹاف نے بنگال کے جنگل کا رخ کیا جہاں 10شیروں کو کچھ عرصہ قبل چھوڑا گیا تھا کئی روز تک تلاش  کے بعد صرف3شیر مل پائے باقی7شیروں کا سراغ نہ مل پایا باالآخر جنگلی حیات کے ماہرین  کو ٹاسک دیا گیا  کہ وہاان 7شیروں کا سراغ لگائیں ان کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ جنگلی حیات کے ماہرین نے کئی روز تک محنت کی لیکن ان7شیروں بارے کچھ معلوم نہیں ہوا 7شیروں کی گمشدگی جنگلی حیات کے ماہرین کیلئے چیلنج بن گئی جب اس حقیقت بارے محکمہ شہری دفاع کو معلوم ہوا ان کی بھی دوڑیں لگ گئی کہ کہیں ان شیروں نے شہری علاقوں کا رخ نہ کرلیا ہو۔ محکمہ جنگلی حیات کوآخر کار ایک شیر کی ہڈیاں  مل گئیں اب بات سمجھ آگئی جس کے بعد  7شیروں کی باقیات بھی مل گئیں محکمہ جنگلی حیات نے تحقیق کی کہ آخر جنگل کے بادشاہ کا یہ حشر کس نے کیا۔ تحقیق کے نتائج حیران اور پریشان کن تھے کئی سال تک سرکس میں تیار شدہ گوشت کھانے کی وجہ ان شیروں میں اپنا شکار خود کرنے کی صلاحیت نہیں رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنا شکار دور کی بات تھی ا پنا دفاع کرنے کی صلاحیت بھی  محروم ہو چکے تھے جنگلی کتے ان پر حملہ آور ہوئے اور ان جنگلی کتوں نے ان شیروں کا شکار کیا مسلسل سرکس میں رہنے کی وجہ سے وہ شیر صرف نام کے رہ گئے تھے اپنا شکار کر کے کھانے کی عادتختم ہو چکی تھی انہیں تیار گوشت کھانے کی عادت ہو گئی تھی ۔5اگست 2020ء کو ہمارے کشمیری بھائیوں کو محصور ہوئے ایک سال ہو گیا اس دوران بھارتی ظلم وجبر اپنی انتہا کو پہنچا ننھے معصوم کے سامنے اس کے نانا کو شہید کیا گیا بھارتی فوج کے ہاتھوں عصمت  دری کے واقعات میں اضافہ ہوا یہ سب مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجودہمارے عقائد ہمارے دعوئوں کی طرح ثابت ہوئے ہمارے ضمیر جاگے اور نہ ہماری آواز موثر انداز میں مظلوم کشمیری کیلئے بلند ہوئی ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ ہمیں شیر سے سرکس کا شیر بنا دیا گیا ہے اگر صورتحال یہ ہی رہی پھر ہمیں اپنے انجام کیلئے بھی تیار رہنا ہوگا
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے مسلمانو
تمہاری داستاں نہ  ہو گی داستانوں میں