Official Web

اپوزیشن سربراہان کی ملاقاتیں اوراے پی سی ایجنڈا

جنیدیوسف

205
Spread the love

مائنس ون کی چہہ مہگوئیوں کے بعد اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر حکومت کیخلاف ایک پیج پر جمع ہو گئی ہیں ۔اب کی بار اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اس موقف پر ڈٹے نظر آتے ہیں کہ اے پی سی کے انعقاد کے بعد حکومت کیخلاف مہم تیز کر دی جائیگی ۔اے پی سی کے انعقاد ، حکومت کو ہٹانے اور انتخابات کے مطالبے پر بحث و مباحثے جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق اے پی سی میں شرکت کے لیئے نواز شریف سے رابطہ کیا گیا ہے نواز شریف سے اے پی سی میں ن لیگ کی بھرپور شرکت کی یقین دہانی لی گئی۔ نواز شریف نے شہباز شریف سے رابطہ کر کے ملاقات اور اے پی سی میں بھرپور شرکت کا کہا۔ نواز شریف نے عید کے بعد ہونے والی اے پی سی کی میزبانی کے لیے بھی شہباز شریف کو کہا ہے ۔ شہباز شریف سے ملاقات میں مولانا فضل الرحمٰن نے پچھلے آزادی مارچ میں عدم تعاون پر شکوہ کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماو ں کے درمیان ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی جبکہ حکومت کیخلاف جدوجہد کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اپوزیشن رہنماو ں کی اس اہم ملاقات میں قمر زمان کائرہ، چودھری منظور، مولانا امجد خان، حاجی منظور آفریدی اور بلال میر بھی موجود تھے۔پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں آج کل ‘ایک بار پھر’ مائنس وَن کا شور بپا ہے اور عام تاثر یہ پایا جاتا کہ وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت اب چند ماہ کی مہمان ہے۔یہ حکومت کس طرح جائے گی؟ اس بارے میں کسی کے پاس کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں، سوائے ایک دلیل کے کہ وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔اگر تحریک عدم اعتماد آ بھی جائے تو اس کی کامیابی کے امکانات کتنے ہوں گے؟ اس بارے میں دلیل دینے والوں کے پاس بھی یقین کے ساتھ کوئی جواب نہیں۔تحریک عدم اعتماد ایک آئینی راستہ ہے، دوسرا راستہ یہ ہے کہ اگر وزیرِاعظم سمجھیں کہ اس طرح کی کوئی صورتحال بننے جارہی ہے تو وہ صدر کو مشورہ دے کر قومی اسمبلی توڑ سکتے ہیں، نتیجے میں نئے عام انتخابات کی طرف جانا ہوگا۔مائنس وَن کی دوسری صورت یہ ہے کہ عمران خان صاحب کسی عدالتی حکم کے ذریعے نااہل قرار پائیں اور اپنی جگہ کسی اور کو نامزد کریں، لیکن فی الحال تو ایسا بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔مہنگائی کے ستائے عوام اور حکومت مخالف لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اگر چلے گئے تو معاملات بہتری کی طرف چل پڑیں گے۔دوسری جانبقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عید کے بعد متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت سے جان چھڑانا وقت کی اولین ضرورت ہے۔لاہور میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کے ہمرا ہمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت ان دو برسوں میں عوام کے مفاد کا خیال رکھنے، عام لوگوں کو رعایت دینے، مہنگائی سے بچانے، بے روزگاری، کاروباری حالات اور پاکستان کی معیشت، صحت عامہ سمیت ہر حوالے سے ناکام ہوچکی ہے۔ حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں چینی کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے، گندم کی کٹائی کا سیزن ختم نہیں ہوا لیکن قلت کا سامنا ہے اور لوگ چکی کا مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ پچھلے دنوں پیٹرول کی قلت ہوئی اور تاریخ میں سب سے زیادہ قیمت میں اضافہ ہوا، اس کے علاوہ کئی اور معاملات پر غور کریں تو نظر آئے گا کہ ان دو برسوں میں مہنگائی آسمان پر جاچکی ہے ۔ ڈالر 170 روپے کے قریب جا پہنچا اور ہم پیداواری اہداف میں ناکام ہوئے، گندم کی قلت ہوئی اور درآمد کرنا پڑ رہی ہے، چینی 100 روپے پر چلی گئی۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اس سے بدترین حکومت تاریخ میں نہ عوام نے پہلی دیکھی ۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کو کیا لائحمہ عمل اپنانا چاہیے اس کے لیے فی الفور رہبر کمیٹی کا اجلاس بلایا جائیگاجس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہوگی’۔ رہبر کمیٹی میں ‘جو بھی نکات طے ہوں گے اس پر عید کے بعد اے پی سی بلائی جائے گی اور اپوزیشن کی ساری جماعتیں غور و فکر کر کے اپنا مربوط پروگرام پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کریں گے کہ یہ حکومت ناکام ہوچکی ہے اور اب اس سے جان چڑھانا وقت کی اولین ضرورت ہے’۔ ‘مولانا کا آزادی مارچ بڑا مذہبی اور سیاسی شو تھا جس نے عوام کے جذبات کی بھرپور عکاسی کی جو مولانا کی بڑی کامیابی تھی اور ہم سب ان کاوشوں کو تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘ تمام اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ مؤقف ہے کہ یہ حکومت ناجائز ہے’۔ یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے، اس کی آئینی حیثیت نہیں ہے’۔ حکومت اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ایک نااہل اور ناکام حکومت ثابت ہوچکی ہے، آج ملک کا غریب طبقہ، بے روزگار نوجوان اور عام آدمی معاشی کرب میں مبتلا ہے’۔ مہنگائی، بے روزگاری، تاجر طبقہ اور چھوٹا یا بڑا کاروباری طبقہ ہو، اساتذہ، ڈاکٹر، وکلا ہوں کسی بھی شعبے میں جائیں وہاں مایوسی چھائی ہوئی ہے’۔ کورونا کی وجہ سے ملکی سیاست میں خاموشی اور جمود سا آیا لیکن اب ہم نے اس خاموشی کو توڑنا ہے اور اب یہ خاموشی مزید برقرار نہیں رہے گی۔عید کے فوراً بعد رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا جس کے بعد تمام جماعتوں کی اے پی سی اور حتمی لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلے سامنے آئیں گے ۔ آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمارا بجٹ منفی سے نیچے چلاگیا ہے، پہلی مرتبہ بجٹ کا مالیاتی حجم پچھلے بجٹ سے کم ہے، پہلی مرتبہ پاکستان کے آنے والے سال کے محصولات کا ہدف گزشتہ برس سے کم ہے’۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہمارا ملک کہاں چلاگیا ہے، اس ملک کو مزید کہاں غرق کرنا ہے کیونکہ اس حکومت کو جو ایک ایک دن مل رہا ہے، اس کی بنا کر پاکستان ڈوبتا چلا جارہا ہے ۔