Official Web

تحریک عدم اعتماد سے ایک رات پہلے مارشل لاء کی دھمکی دی گئی:بلاول بھٹوزرداری

39
Spread the love

اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے ایک رات پہلے انہیں فوری الیکشن یا پھر مارشل لاء کی دھمکی دی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے سابق حکمران کو جمہوری طریقے سے ہٹایا گیا اور ہم جمہوری انداز میں اپوزیشن سے اٹھ کے حکومتی بینچز پر بیٹھے ، کیا کوئی یہ سوچ سکتا تھا ہم سب اتحادی حکومت میں ایک ساتھ ہونگے، ہم نے کیوں یہ وزن اپنے کندھوں پر لیا ہے،یہ حالات اس وقت بنتے ہیں جب ملک اور قوم بحران کا سامنا کررہے ہیں ، جنگ اور ایمرجنسی جیسے حالات ہوں تو پھر سیاسی اختلاف کو ایک طرف رکھ کر ایسا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ آج ہر طرف بحران ہی بحران ہے، اپوزیشن کے دور میں جو حالات دیکھے، اس سے بھی بدترین نظر آتے ہیں کیونکہ سابق حکمرانوں نے اندازہ سے زیادہ تباہی کی، عمران خان، صدر پاکستان ،سپیکر ، ڈپٹی اسپیکر 3 سے 9 اپریل سے آج تک آئین پر حملے کررہے ہیں، ہمارے جمہوری اقدام کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس نے جمہوریت پر حملہ کیا ہے، ایک کمیشن بنایا جائے تاکہ جائزہ لیا جائے کہ کون کون آئین کی خلاف ورزی میں شامل تھا۔

انہو ں نے کہا کہ سابق حکومت نے جمہوری مقابلے سے بھاگتے ہوئے جمہوریت پر حملہ کیا، عوام سمجھتے ہیں کہ سابق حکمرانوں اور ذمہ داران کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے، سابق وزیراعظم سمجھتا ہے کہ وہ کوئی مقدس گائے ہے اور ملک کے کونے کونے میں پھر رہا ہے، ایسے حملے کررہا ہے جو ہمارے آئین کے خلاف، ہماری قومی سلامتی کے خلاف اور معاشی استحکام کے خلاف ہے ، وہ اس لئے خود کو مقدس گائے سمجھتا ہے کہ آج تک سلیکٹڈ کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا ۔ عمران چاہتا ہے اصلاحات کے بغیر اس کی مرضی کے مطابق انتخابات کروائے جائیں، وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے کہ کسی تیسری قوت کو موقع ملے، یہ حکمت عملی اس کی آج کی نہیں ہے، مجھے عدم اعتماد سے ایک رات پہلے بھی دھمکی دی گئی تھی کہ فوراً الیکشن مانیں یا پھرمارشل لاء ہوگا یہ دھمکی ایک وزیر کے ذریعے مجھ تک پہنچائی گئی تھی تاکہ تحریک عدم اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جائے۔

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ہم انتخابات چاہتے ہیں، ہمارا مطالبہ یہ لانگ مارچ میں بھی رہا ماضی میں بھی رہا لیکن پہلے اصلاحات اور پھر انتخابات ہوں گئے، یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسی ہےہمارے اتحادی ایک اور میثاق جمہوریت چاہتے ہیں، چاہے وہ ہو یا نہ مگر کم از کم ایک ضابطہ اخلاق طے ہونا چاہیے، ہمیں پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ ساتھ جو ایوان میں موجود نہیں انہیں بھی اعتماد میں لینا ہوگا،جس طرح نفرت انگیز حالات نظر آرہے ہیں تو ہمیں ایک کوڈ آف کنڈکٹ پر اکٹھا ہونا ہوگا، اگر ایک ضابطہ کار پر سیاسی قوتیں اکٹھی نہیں ہونگی تو پھر اگلا الیکشن خونی ہوگا، اگر ہم جمہوری رویوں پر یقین نہیں رکھیں گے تو پھر تم بھی بندوق اٹھاؤ، میں بھی اٹھاؤں، یہ حالات بن جائےگے، ہمیں اس معاملے بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔