Official Web

خواتین کے خلاف جرائم ختم کرنے کے لیے قوانین ہونے کے ساتھ خواتین کی عزت کرنا بھی لازم ہے

29
Spread the love

اسلام آباد :سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم ختم کرنے کے لیے قوانین ہونے کے ساتھ خواتین کی عزت کرنا بھی لازم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صنف کی بنیاد پر جنسی تشدد کے واقعات اور عدلیہ کا ردعمل کے موضوع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ جوڈیشل کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتراف کرتا ہو تقریب کے موضوع پر مہارت حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1979 میں ایک جابر نے پاکستان کے مسلمانوں کو بہتر مسلمان بنانے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل بنائی، ہمارے تمام قوانین انگریزی میں ہوتے ہیں، دو زبانوں میں کیوں نہیں ہوسکتے، آج تک سمجھ نہیں سکا کہ لوگوں کو سمجھانے کیلئے قانون انگریزی کیساتھ دوسری زبان میں کیوں نہیں ہو سکتے ، حدود قوانین میں جرائم کے ناموں کو پہلی بار عربی زبان سے لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریپ کو زنا بالجبر کی حدود میں لایا گیا اس غلطی کو درست کرنے میں 27 سال لگے،

اس دوران کتنی خواتین نے تشدد برداشت کیا ان کا جواب اللہ کو کون دے گا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسلام واحد دین ہے جس نے بنیادی ستون حج میں ایک اہم حصہ ایک عورت کی پاؤں کی چھاپ یعنی سعی کو رکھا۔اس موقع پر سابق جج جسٹس ناصرہ اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین اور بچے زیادہ تر جنسی تشدد کا نشانہ جاننے والوں کے ذریعے بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکا ملازم منشیات لینے لگا اور اس نے اپنی ہی بیٹی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا،ماں ،بیٹی کولیکر تھانے پہنچی تو محرر نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے کہا یہ ان کے گھر کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنسی تشدد اور زیادتی کا نشانہ بننے والی متاثرہ خاتون کا مقدمہ خصوصی انتظامات میں ہونا چاہیے ،جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات کا فیصلہ دو ماہ میں ہونا چاہیے ،غیر سرکاری تنظیموں کو فنگشنز کرنے کی بجائے متاثرہ خواتین کی قانونی امداد پر وسائل خرچ کرنے چاہیں ۔ اس دوران سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس قاضی امین نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدالت میں بیٹھا جج ریاست کا چہرہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنسی زیادتی کے 75فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے،جنسی زیادتی کے جرائم میں صرف سات فیصد ملزمان کو سزائیں خطرناک صورتحال ہے ،انصاف کی فراہمی میں سارا نظام اور اسٹیک ہولڈر ناکام ہیں،جنسی زیادتی کے جرائم کا ٹرائل تیز رفتاری سے ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس آفیسر کو تفتیش کے لیے پانچ سو روپے ملتے ہیں ،جب کہ جنسی زیادتی کے کیس میں صرف ڈی این اے ٹیسٹ چودہ ہزار کا ہوتا ہے ۔ جسٹس ریٹائرڈ قاضی امین نے کہا کہ سیکس کرائم میں جرح کے لیے سوالات دینے چاہئیں لاامتناہی سلسلہ نہیں ہونا چاہیے،خواتین کے لیے پاکستان کو ایک محفوظ ملک بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ،جسٹس کارنیلیس نے یہ سہولت بے کس لوگوں کے لیے دی لیکن آج ریپ سمیت بڑے سے بڑے جرم کا زمے دار عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لیتا ہے۔۔۔