Official Web

نالائق، نااہل، چور، جھوٹے، کرپٹ، کارٹلز اور مافیا کا ٹولہ چار سال اقتدار سے چمٹا رہا

36
Spread the love

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نالائق، نااہل، چور، جھوٹے، کرپٹ، کارٹلز اور مافیا کا ٹولہ چار سال اقتدار سے چمٹا رہا اقتدار سے جانے کے بعد تین اپریل سے 12 اپریل تک انہوں نے آئین شکنی کی آئین شکنی اور پارلیمان پر حملے کا واحد مقصد یہ تھا کہ یہ اپنے اقتدار سے چمٹے رہیں چاہے مہنگائی ہو یا معاشی تباہی انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں میڈیا کے نمائندوں سے کیا انھوں نے یہ بھی کہا کہ چار سال تک لوٹ مار کرنے والا ٹولہ نااہل ٹولہ آج سوالات ان سے کر رہا ہے جن کے پاس چار ہفتوں سے حکومت آئی ہےسیالکوٹ جلسے کے لئے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو استعمال کیا جا رہا ہے ہیلی کاپٹر کیس، بی آر ٹی، پشاور، مالم جبہ سمیت تمام کیسز پاکستان کے عوام کو یاد ہیں عمران نیازی خیبر پختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر کس حیثیت سے استعمال کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی سرکارہ عہدہ یا ایسی کوئی پوزیشن نہیں کہ وہ خیبر پختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کر سکیں سرکاری وسائل استعمال کر کے اداروں کو گالیاں دی جا رہی ہیں نااہل ٹولے نے جھوٹے الزامات لگا کر اپنے سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈالا انھوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کی آواز بند کی، صحافیوں کو گولیاں ماریں،

 

صحافیوں کی بچیوں کو ان کے گھروں کے باہر سے اغواء کیا چار سال تک اپنے دور میں انہوں نے اینکرز کے پروگرام بند کئے اپنے دور اقتدار میں انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو آرڈیننس کے ذریعے چلایایہ وہی ہیلی کاپٹر کیس ہے جس کو دبانے اور سوال نہ پوچھنے کے لئے انہوں نے خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن کو تالہ لگایانیب کو وفاق اور دوسرے صوبوں میں استعمال کیا اور خود کل اس بات کا اعتراف کیا کہ میں نیب کو ان لوگوں پر کیسز بنانے کے لئے استعمال کرتا تھاپاکستان کے عوام اور نوجوانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ آج خیبر پختونخوا میں عمران خان کی حکومت کو نو سال ہو گئے ہیں اور نو سال احتساب کمیشن کو تالہ لگا ہوا ہےاحتساب کمیشن کو تالہ لگا کر ہیلی کاپٹر کیس کو دبانے کی کوشش کی گئی سی ٹی آئی بوائز ہائی سکول نے ڈپٹی کمشنر ضلع سیالکوٹ کو 9 مئی کو خط لکھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے جلسے کی اجازت مانگی ہے، چرچ گرائونڈ میں مسیحی برادری کی عبادت گاہ ہے،

یہاں جلسہ نہیں کیا جا سکتامسیحی برادری کا سیالکوٹ کے اندر ایک تاریخی پس منظر ہے سیالکوٹ کی ترقی اور پاکستان کی ترقی میں مسیحی برادری کا ایک بڑا کردار ہےمسیحی برادری نے سی آئی ٹی گرائونڈ میں جلسے کے خلاف احتجاج کیامسیحی برادری کا کہنا ہے کہ یہ ہماری عبادت گاہ ہے، اس کے علاوہ کوئی اور جگہ جلسے کے لئے رکھی جائےپی ٹی آئی سے کہا گیا کہ وہ جمنازیم سپورٹس اور ایک سکول کے احاطے جگہ متبادل لے لیں لیکن پی ٹی آئی بدمعاشی، غنڈہ گردی کے ذریعے چرچ کی جگہ استعمال کرنے کیلئے بضد ہے پی ٹی آئی نے اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا9 مئی کو بتا دیا گیا تھا کہ مسیحی برادری اپنے چرچ کے گرائونڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دے رہی آج تک چرچ کے گرائونڈ میں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہوئی حکومت کا فرض ہے کہ مسیحی برادری کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے ڈی سی آفس نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے جلسے کی جگہ تبدیل کرلے لیکن ان کے رویوں میں بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے، یہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور دھمکی دے کر اپنی مرضی کے فیصلے کروالیں گےمسیحی برادری نے احتجاج کیا،

درخواست کی کہ جلسے کی جگہ تبدیل کی جائے لیکن یہ اعلانات کر رہے ہیں کہ میں آ رہا ہوں، انہیں کون آنے سے روک رہا ہے، انہوں نے پہلے بھی جلسے کئے ہیں، کسی نے نہیں روکاہم نہ فاشسٹ ہیں نہ آپ کی تقریروں سے ڈرتے ہیں، جتنی آپ غلاظت اگلیں گے اس کا ڈائریکٹ فائدہ ہمارا ہوگاپاکستان کے عوام ان کی اصلیت جان چکی ہے، ان کو مزید اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں، ان کی ذہنیت کس طرح کی ہےتحریک انصاف کو کسی نے بھی جلسہ کرنے سے نہیں روکاتحریک انصاف ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے بطور وزیر داخلہ عوام کے تحفظ کی ذمہ داری رانا ثناء اللہ پر ہے عمران خان نے چار سال معیشت کو تباہ کیاچند دن پہلے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا شخص دھمکی دے رہا ہےاس کرسی پر بیٹھ کر پاکستان کے عوام کے خلاف کی جا رہی تھی 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں 11 روپے فی یونٹ تھی، ہم نے 14 ہزار میگا واٹ بجلی بنا کر دکھائی عمران خان جب حکومت چھوڑ کر گیا تو 24 روپے فی یونٹ بجلی تھی، ایک میگاواٹ بجلی بھی انہوں نے نہیں بنائی انہوں نے بجلی کے پلانٹس کی مرمت نہیں کی، لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں عوام کو مبتلا کیا عمران خان نے 11 روپے سے فی یونٹ سے بڑھا کر 24 روپے فی یونٹ کی، گیس کی قیمت 600 روپے سے بڑھا کر 2400 روپے کی،

یہ ان کے اعمال نامے ہیں جس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہےڈی اے پی کی بوری کی قیمت 2400 روپے سے بڑھ کر 10 ہزار روپے ہو گئی ان کے دور میں کسانوں کو ڈی اے پی بھی نہیں دستیاب نہیں تھی، انہوں نے کسانوں کے گلے دبائے، کاروبار بند کئے گئے جھوٹ بولتے ہیں کہ ہماری پیداوار زیادہ ہوئی کارٹلز اور مافیاز کو منافع دیئےکاغذ لہرا کر سازش کا بیانیہ اپنا کر اپنی کارکردگی، لوٹ مار سے عوام کی نظریں نہیں ہٹا سکتےمذہب پر، ریاست مدینہ کا نام استعمال کر کے اور اپوزیشن کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈال کر سیاست کرنا ان کا چار سال وطیرہ رہا ہےانہوں نے پاکستان کے عوام کا روزگار چھینا، مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا اور آج کہہ رہے ہیں کہ میں آ رہا ہوں، انہیں شرم آنی چاہئے، انہیں

شیشہ دیکھنا چاہئے تاکہ یہ اپنا اصل چہرہ دیکھ سکیں آج ملک میں مہنگائی کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں ہم نے پاکستان کو ایمرجنگ بزنس حب بنایا تھا، جس میں ترقی 6 فیصد پر آ گئی تھی انہوں نے اپنے چار سالوں میں پاکستان کو ترقی سے تنزلی کی طرف دھکیلا، سی پیک پر متنازعہ بیانات دے کر انہوں نے چین کو ناراض کیا سی پیک کے منصوبے پاکستان کے عوام کے لئے تھے دوست ممالک سے ملے ہوئے تحائف انہوں نے چوری کئے، توشہ خانہ سے کم قیمت پر کئی تحائف انہوں نے حاصل کئے انہوں نے 60 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا ہے، انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے شہباز شریف نے اقتدار میں آ کر چار سال سے بند منصوبوں کو چلایا ہمارے پاس صلاحیت بھی ہے اور ٹیم بھی ہے، ہم نے 2013ء سے 2018ء تک ملک میں مہنگائی کو کم کیا، ڈالر کی قدر کو مستحکم کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام ان سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے سوال نہ پوچھے