Official Web

ریڈیو پاکستان سی بی اے یونین کا اجلاس، درختوں کی کٹائی کے بے بنیاد الزامات کی پْرزور مذمت

سینٹ  کمیٹی کو خط اور میڈیا میں جاری خبریں بے بنیاد،من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہیں

63
Spread the love

اسلام آباد:ریڈیو پاکستان کی CBA یونین یونائیٹڈ سٹاف آرگنائزیشن کا ہنگامی اجلاس سنٹرل یونین آفس میں زیرِ صدارت چیئرمین احمد نواز خان منعقد ہوا۔

اجلاس میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں درختوں کی فروخت کے حوالے سے ایک سینیٹر کی طرف سے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو لکھے گئے خط اورمیڈیا میں ریڈیو پاکستان جیسے عظیم ادارے اور اس کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل کے خلاف جاری ہونے والی خبروں کا بغور جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں تمام یونین کے اراکین اس بات پر متفق تھے کہ درختوں کی نیلامی کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے اور کسی قسم کی کوئی بے قاعدگی نہیں پائی گئی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو لکھے جانے والا خط اور میڈیا میں جاری ہونے والی خبریں بے بنیاد،من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔مزید اس بات پر زور دیا کہ ریڈیو کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل کی کردار کشی ذاتی عناد کی بنیاد پر کی گئی جو کہ ایک نیک شہرت رکھنے والے دیانت دار،محنتی اور بے داغ سینئر آفیسر ہیں۔

حقائق کے منافی خط کے حوالے سے میڈیا میں بے بنیاد اورجھوٹے الزامات  پر مبنی شائع ہونے والی خبروں میں ادارے اور اس کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے اور خاص طور پر اونے پونے داموں درخت فروخت کرنے کے الزام پر مذمتی قرار داد منظو ر کی گئی اور ملک بھر میں پْر زور احتجاج کرنے اور سینیٹر کے خلاف  قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں چیئرمین احمد نواز خان اور سیکریٹری جنرل محمداعجاز نے اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حقائق جانے بغیر سینیٹر کی طرف سے خط میں من گھڑت الزامات لگائے گئے اجلاس کو بتایا گیا کہ جن درختوں کی کٹائی اور فروخت کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے وہ چند ایک سوکھے سفیدے، جھاڑیاں اور جنگلی شہتوت کے درخت تھے جو کہ ناکارہ درخت تھے اور ان کی نیلامی کیلئے باقاعدہ اخبار میں اشتہار اور دو کمیٹیوں کے ذریعے تمام قانونی تضاضوں کو پورا کرتے ہوئے سو فیصد میرٹ پرکی گئی۔ دونوں کمیٹیاں سینئرذمہ دار افسران پر مشتمل تھیں۔

 اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ کاٹے جانے والے درختوں کی جگہ نئے تین سو سے زائد پودے بھی لگادیئے گئے ہیں اور مزید درخت مون سون میں بھی لگائے جائیں گے۔اخبارات میں شائع ہونے والا نیلامی عام درختاں اشتہار نمبر PID(1)4140/21سابقہ وزیر اطلاعات و نشریات کی ہدایت پر PID(1)5087/21کو منسوخ کر دیا گیا اور باقی جگہ نیلامی اس وقت کے وزیر کے حکم سے روک دی گئی تھی۔

اجلاس میں اس بات کو بھی زیرغور لایا گیا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کا شاخسانہ ہے جس میں ڈائریکٹر جنرل کے بے داغ کیریئر کو داغدار کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔حقائق جانے بغیر سینیٹر  کی طرف سے جاری ہونے والی خبروں کی اشاعت اور قائمہ کمیٹی کو خط کا لکھا جانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سینیٹر موصوف تمام چیزوں سے بے خبر ہیں اور جان بوجھ کر ڈائریکٹر جنرل کی ساکھ اور نیک نامی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا جس میں ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کو عرفان صدیقی اور ریٹائرڈ جسٹس شوکت صدیقی کے ریفرنس سے کالز موصول ہوئی جس میں ایک  نامعلوم شخص نے اپنے آپ کو سینیٹر عرفان صدیقی کا بھائی بتاتے ہوئے کہا کہ ریڈیو کے ایک ملازم کی اسلا م آباد سے روات ٹرانسفر کر د یں جواب میں ڈائریکٹر جنرل نے اس بات سے معذرت کر لی کیونکہ روات ریڈیو اسٹیشن بند ہونے کی وجہ سے سیکورٹی عملے کے علاوہ تمام سٹاف کو اسلام آباد اور دوسر ی جگہوں پر ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔ کالر نے بدتمیزی کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے فون بند کر دیا اور اس سے اگلے ہی روز سینیٹر عرفان صدیقی نے قائمہ کمیٹی کو خط بھی لکھا اور میڈیا میں بے بنیاد خبریں بھی شائع کروائیں اورمیڈیا ٹرائل شروع کر دیا۔

اس موقع پر سیکرٹری جنرل محمد اعجاز نے کہا کہ گزشتہ سال ریڈیو پاکستان تباہی کے دھانے پر پہنچ چکاتھا لیکن موجودہ ڈائریکٹر جنرل نے  ادارے کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے کئی ٹھوس اور عملی اقدامات کئے نئے ٹرانسمیٹرزلگائے،ریڈیو پاکستان کی تمام عمارات کی تزئین و آرائش،ملازمین کو کئی سالوں سے رکے ہوئے میڈیکل بلز کی ادائیگی، کئی سالوں سے رکی ہوئی ملازمین کی عہدوں پر ترقیاں کرنے سمیت ذرائع آمدن بڑھانے کیلئے بھی مثبت عملی اقدامات کئے ہیں جوکہ قابل تحسین ہیں۔

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں ایسا سربراہ ادارے کو نہیں ملا جس نے ایسے جذبے سے انتہائی محنت،دیانتدار ی اور ایمانداری سے کام کیا ہو اور اس ادارے کی بہتری کیلئے دن رات کام کیا ہولہٰذا کسی صورت میں کسی کو بھی ڈائریکٹر جنرل کوبلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اورہر فورم پر پرزور آواز بلند کی جائے گی اور بھرپور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

آخر میں سی بی اے یونین نے وزیراعظم پاکستان سے پْرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر جو اداروں اور ان کے نیک نیت سربراہان کی ساکھ کو اپنے ذاتی مقاصد اور مفادات کی خاطر بلاوجہ خراب کر رہے ہیں ایسے اشخاص کو باز رکھا جائے اور ان کے خلاف فی الفور سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔