Official Web

ظالم اور بے ضمیر

تحریر:ناصر محمود بٹ

41
Spread the love

1980ء کے اوائل میں شروع ہونے والی روش، افغان جنگ میں پاکستانی دفاعی اداروں نے امریکی پالیسیوںپر عمل درآمد کرتے ہوئے (NSA) Non State Actorsکو طالبان کی اصطلاح سے متعارف کروایا اور ایک غیر فطری طریقہ کار سے ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے کو قومی پالیسی کانام دیا۔ وقت نے پوری دنیا پر واضح کیا کہ جنگ بھی غیر فطری طریقے سے لڑنا اور جتینا ناممکن ہے۔ کئی کئی سال کی محنت اور تربیت کے بعد جوانوں کو اپنی قوم اور اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے تیار کیاجاتا ہے، انہیںجنگی آداب سکھائے جاتے ہیں، ہار جیت کے بعد کی زندگی کا سلیقہ بتایا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس (NSA)کسی بھی قسم کے وصف سے عاری ہوتے ہیں اور انکے لڑنے کی وجہ صرف اور صرف وہ ہڈی(لالچ کی) ہوتی ہے جو اُن کو کسی سے لڑنے سے پہلے دیکھائی جاتی ہے۔ پاکستان نے مذکورہ جنگ میں جہاں افغانیوں کو پناہ دے کر اقوامِ عالم سے داد وصول کی وہاں (NSA)کو جنگ میںملوث کرکے اپنے ملک کے چپے چپے کو زہر آلود بھی کیا اور وہ زہر آج چار دہائیوں کا سفر کرکے ہماری رگوں میں سرائیت کرچکا ہے۔ اس زہر کو صاف کرنے کے لئے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کا سہارا لینا پڑا ہے ، اللہ پاک ہماری فوج اور ہمارے ملک کی حفاظت فرمائیں آمین۔

افغانستان ، انڈیا اور کافی حد تک ایران بھی ایسے دیوانوں میں شامل ہے جنہوں نے افغان ، روس جنگ میں امریکہ اور پاکستان کی دفاعی حکمت عملی (نان سٹیٹ ایکٹرز کا استعمال) سے کچھ نہیں سیکھا اور تقریباً چالیس سال کے بعد بھی اُسی دفاعی حکمت ِ عملی پر چل رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف(NSA)کو استعمال کرکے اپنے مطلوبہ احداف حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ان نان سٹیٹ ایکٹرز میں ایسےMillitant Groupsشامل ہیں جو دنیا بھر میں مختلف نام استعمال کرکے صرف بدامنی کا سبب بنے ہوئے ہیں اور حیرانگی کی بات ہے کہ اُن کی Fundingمختلف ممالکت کی منتخب حکومتیں کررہی ہیں( اس بات کے واضح ثبوت بھی موجود ہیں )خصوصاً انڈیا، افغانستان اور اسرائیل موجودہ حالات میں اپنے اپنے ملک کی سرحدوں پر بے امنی پھیلانے میں ایک دوسرے کی بھرپور اور کھلم کھلا مدد کررہے ہیں ، ان حالات سے اقوام ِ متحدہ بھی واقف ہے اور ریٹائرڈ آرمی آفیسرز جس نئی عسکری قوت کو Joinکررہے ہیں، اُن سے بھی جنگی جنون کا شکار ممالک ڈھکے چھپے نہیں ۔ اسرائیلی قوم ازل سے اپنی سرحدوں کا تعین کرنے سے قاصر ہے، ہندوستان کو پاکستان کی ترقی کا غم کھارہا ہے اور افغانستان احسان فراموشی کی سزا بھگت رہا ہے کبھی یہ دَر تو کبھی وہ دَر۔ حالانکہ پاکستان اور پاکستانیوں نے انہیں سرآنکھوں پر بٹھائے رکھا لیکن افغانیوں نے احسان کا بدلہ شر سے دیا (حضرت علی کے قول کے عین مطابق کہ جس پہ احسان کرو اُس کے شر سے بچو)۔

ہرقوم کو اللہ تعالیٰ نے پھلنے پھولنے کے ہزاروں مواقع دے رکھے ہیں لیکن بلاشبہ حاسد بھی اسی دنیا میں گھوم رہے ہیں جو اپنے گھر میں آئی لکشمی سے مستفید ہونے کی بجائے دوسروں کے گھروں میں آگ لگانے میں مصروف ہیں۔CPECجیسا منصوبہ کسی عجوبے سے کم نہیں اور اس منصوبے سے کروڑوں لوگوں کو فائدہ ہونے جارہا ہے لیکن حسد کی آگ میں جلتا ہوا ہندوستان اور دربدر افغانستان، اپنے اپنے ملک کو ایسے Giant Projectکا حصہ بنانے کی بجائے (NSA)کی مدد سے ہماری سرحدوں پر بے امنی پھیلانے میں مصروف ہوگئے ہیں اور اس بات کا ثبوت پیش کررہے ہیں کہ اُن کی سوچ آج ہم سے تیس چالیس سال پیچھے ہے، ورنہ وہ ایک ناکام حکمت عملی(تیس چالیس سال پرانی) پر عمل پیرا نہ ہوتے اور Militant Groupsکو ساتھ ملا کر اپنی تباہی کا سامان اکٹھا نہ کررہے ہوتے۔

موجودہ پاکستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں اور مقصد سوائے پاکستان کو غیر مستحکم رکھنے کے کچھ اور نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے والی سیاسی جماعتیں (پاکستانی) بھی غیر مستحکم پاکستا کی ذمہ دار ہیں۔ سب ایک دوسرے پر غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہونے کے الزام لگارہے ہیں لیکن گریبانوں میں نہیں جھانک رہے کہ اندرونی خلفشار سے جتنا ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے، شائد غیروں کی دشمنی سے ویسے نقصان نہ پہنچا ہو۔ ہرحال میں عام آدمی کو یہ سمجھنا اور شعور حاصل کرنا ہوگا کہ یہ سب کے سب (مطلب سب ہی ) ایک ایجنڈے پر گامزن ہیں اور وہ ایجنڈا ہے اقتدار کی کرسی حاصل کرنا ۔ہمیں ان کا احتساب مل کر کرنا ہوگا۔ ایک ایک ہوکر اور آپس میں اختلافات بڑھا کر ہم صرف ان ظالموں کی مدد ہی کریں گے اور اپنے ہی پائوں پر کلہاڑیوں کے وار کرنے کے مترادف ہوگا ان ظالم اور بے ضمیر حکمرانوں کا ساتھ دینا۔