Official Web

سپریم کورٹ سےازخودنوٹس کی اپیل

تنو یر اعوان

20
Spread the love

قوم کا ایک سپوت کانسٹیبل کمال احمد موجودہ حکومت و افسران کے غیر آئینی اقدام کا شکار ہو گیا اور اب حکومت اپنے گناہ کو چھپانے کے لیے حکومت کے ہاتھوں اس قتل کو شہادت کے لبادے میں اوڑھ کر گھر والوں کو تسلی اور قوم کو بیوقوف بنا رہی ہے۔ ماں کے بیٹے ہمیشہ حکمرانوں نے ایسے ہی مروائے ہیں۔ وہ نوجوان ملک و قوم کی خدمت کے لیے پولیس فورس میں آیا تھا اور ملک کے آئین و قانون نے اسے یقین دہانی کرائی تھی کہ ماورائے آئین و قانون اس سے کوئی کام نہیں لیا جائیگا اور نوجوان نے بھی حلف دیا تھا کہ ماورائے آئین کسی اقدام کا وہ بھی کبھی حصہ نہیں بنے گا۔

مومن کی جان و مال اور عزت کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے بھی زیادہ افضل قرار دیا گیا ہے حدیث مبارکہ ۖ ہے کہ عن عبدِ اللہِ بنِ عمر قال: ریت رسول اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یطوف بِالکعبِ، ویقول: ما طیبکِ وطیب رِیحکِ، ما عظمکِ وعظم حرمتکِ، والذِی نفس محمد بِیدِہِ، لحرم المومِنِ عظم عِند اللہِ حرم مِنکِ مالِہِ ودمِہِ، ون نظن بِہِ ِلا خیرا. حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے،

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن، باب حرم دم الممن ومالہ، 2: 1297، رقم: 3932 طبرانی، مسند الشامیین، 2: 396، رقم: 1568 منذری، الترغیب والترہیب، 3: 201، رقم: 367۔مذکورہ حدیث انہی الفاظ کے ساتھ ابن ماجہ اور دیگر کتب احادیث میں موجود ہے۔اور کوئی کسی مومن کی چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ کیسے شہید کہلا سکتا ہے ؟

چاہے وہ پولیس کا بندہ ہو یا فوج کا؟ قرآن و سنت کے حکم تو اپنی جگہ آئین و قانون نے بھی پابند کیا ہے کہ وارنٹ کے بغیر کسی کے گھر داخل نہیں ہو سکتے اور نہ پکڑنے جا سکتے ہیں؟؟ آئین نے احتجاج کا حق دیا ہے اور پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے ۔ پھر پکڑ دھکے کس لیے؟؟ افسران اور ملازمین حکومت کا غیر آئینی و غیر قانونی حکم ماننے کے پابند نہیں۔اگر حکومت کو خوش کرنے کے لیے افسران نے اور افسران کو خوش کرنے کے لیے اہلکاروں نے کسی مسلمان کی چادر اور چار دیواری پامال کی ہے اور آئین و قانون کے مطابق وارنٹ کے بغیر گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے یا گھر میں گھسے ہیں اور اس دوران کسی مزاحمت میں مارے جائیں تو کہاں کی شہادت اور کونسی شہادت؟؟ شہادت کوئی گڈی گڈے کا کھیل ہے کائنات کے مالک کی طرف سے عطا کردہ ایک اعلی و ارفع درجہ ہے ۔۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ و لا تحسبن الذِین قتِلوا فِی سبِیلِ اللہِ امواتا-بل احیآ عِند ربِہِم یرزقون() (ال عمران:)ترجم کنزالعرفان : اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔

موت کے بعد اللہ تعالی شہدا کو زندگی عطا فرماتا ہے، ان کی ا رواح پر رزق پیش کیا جاتا ہے ،انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ، ان کے عمل جاری رہتے ہیں ، ان کا اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ شہدا کی روحیں سبز پرندوں کے بدن میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں۔(شعب الایمان، السبعون من شعب الایمان، / ، الحدیث: ) حضرت انس بن مالک رضِی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہِ والِہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالی اس سے فرمائے گا :اے ابن آدم!تو نے اپنی منزل و مقام کو کیسا پایا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب عزوجل ! بہت اچھی منزل ہے۔ اللہ تعالی فرمائے گا:تو مانگ اور کوئی تمنا کر۔ وہ عرض کرے گا: میں تجھ سے اتنا سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جاوں۔ (وہ یہ سوال اس لئے کرے گا ) کہ اس نے شہادت کی فضیلت ملاحظہ کر لی ہو گی۔(سنن نسائی ، کتاب الجہاد، ما یتمنی اہل الجن، ص، الحدیث: ) اب کانسٹیبل کمال احمد کو قتل کروانے والو! جواب دو ؟ کہ رات کے ڈھیڑ بجے کونسی کرایہ دار کی سرچ ہوتی ہے؟ اور اب اس جھوٹی ایف آئی آر پر عدالت سزا دے پائیگی؟؟

ہاں البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ تم خود آتے جاتے ان ملزمان کو پار کر دو؟ اس کانسٹیبل کمال احمد کی قاتل حکومت ہے جس نے احتجاج کے بنیادی ، آئینی و قانونی حق کو روکنے کے لیے غیر آئینی و قانونی احکامات جاری کیے اور افسران نے ان احکامات پر آئینی و قانونی نقط نظر لکھ کر حکومت کو آگاہ کرنے کی بجائے اہلکاروں کو غیر قانونی احکامات کی تعمیل کے لیے استعمال کیا؟؟ ”میدانِ کربلا ”نے یہ فلسفہ اور اصول طے کر دیا ہے کہ غیر اسلامی، غیر شرعی و غیر قانونی حکم دینے والا حاکم ، حکومت اور غیر قانونی حکم ماننے والے سب اہلکار بھی قصور وار ہیں۔افسران کو آئین کے مطابق قانون کی پاسداری و عملداری یقینی بنانے کے لیے فورس دیکر ”پاورفل ”کیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی آئین و قانون کے مطابق اختیارات کے استعمال کے طریقِ کار کی SOPکے اندر رہ کر قانون کے نفاذ کا سختی سے پابند بھی کیا گیا ہے ۔ افسران کو ”شتر بے مہار ” نہیں چھوڑا گیا اگر ٹنڈو آلہ یار سندھ کی ”جِندو مائی ”کے بیٹوں کے قتل کیس کی طرح فورس کا غلط استعمال کیا جائیگا تو حکم دینے والے کو ”پھانسی ”ہو گی اور اہلکاروں کو عمر قید کی سزا؟

حکم دینے والا چاہے فوج کا حاضر سروس میجر ارشد جمیل ہی کیوں نہ ہوسپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور اس بات کا آئندہ کے لیے مستقل فیصلہ دیا جائے کہ حکومت کے غیر آئینی اقدام کی وجہ سے فورس کے کسی بھی جوان کی قاتل حکومت وقت اور غیر آئینی حکم دینے والے افسران ہونگے۔کانسٹیبل کمال احمد کا قاتل کون ؟، سپریم کورٹ سے نوٹس کی استدعاکانسٹیبل کمال احمد کی قاتل ”حکومتِ وقت ”ہے جس نے غیر آئینی حکم دیکر قوم کا ایک ”سپوت ”مروا دیا۔ آئین میں ”پرامن احتجاج ”کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ پھر بغیر لیڈیز پولیس اور بغیر کسی قسم کے وارنٹ گرفتاری کے لوگوں کی چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے کس آئین اور قانون کے تحت گھروں میں پولیس زبردستی داخل ہو رہی ہے؟ اور کارکنوں کی گرفتاریاں کر رہی ہے؟ وطن پر قربان ہو جانے والے قوم کے اس سپوت کی ایف آئی آر حکومت کے خلاف درج کی جائے جو احتجاج کے آئینی حق کو دبانے کے لیے غیر آئینی اور غیر قانونی کام کر رہی ہے یا عمران خان کیخلاف درج کی جائے اگر اس نے احتجاج کی غیر آئینی یا غیر قانونی کال دی ہے تو؟

اگر اس نے لوگوں کو احتجاج کے لیے اکسایا اور انتشار پیدا کیا ہے اور عمران خان کا یہ اقدام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے تو عمران خان کے خلاف کانسٹیبل کمال احمد کے قتل کی ایف آئی آر درج کی جائے۔حکومت جہاں غیر آئینی اقدام کر رہی ہے وہیں اس نے کانسٹیبل کمال احمد کے قتل کی جو ایف آئی آر درج کی ہے وہ سراسر جھوٹ کا ایک پلندہ ہے؟ اور بدقسمتی یہ ہے کہ آئی جی پنجاب سب حالات و واقعات سے آگاہ ہے پھر بھی جھوٹ پر مبنی کہانی گڑھی گئی ہے ؟ اگرچہ آئی جی پنجاب کا یہ حال ہے تو باقی صوبے میں عوام کے ساتھ پنجاب پولیس جو کر رہی ہے بالکل حق بجانب ہے پھر ؟ ”جیسی کوکو ،ویسے بچے”۔کونسا کرایہ داری سرچ آپریشن رات کو ہوتا ہے؟ سو فیصد جھوٹ پر مبنی ایف آئی آر 359/22 تھانہ ماڈل ٹائون لاہور۔ جھوٹی کہانی ہے۔جھوٹی ایف آئی آر سے ہمیشہ ملزمان کو فائدہ ہوتا ہے۔ جرآت ہے تو سچ لکھیں کہ ہم سیاسی گرفتاریاں کر رہے تھے؟ لیڈی کانسٹیبل بھی ساتھ نہیں تھیں لیڈی کانسٹیبل ثنا پطرس کا عملے کے ساتھ موجود ہونا ؟ یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔

چادر اور چار دیواری کی پامالی کرتے جو مارا جائیگا وہ کِس شریعت کی روح سے شہید ہو گا۔ اسلامی شریعت تو اللہ اور رسول اللہ ۖ کی دی ہوئی ہے اور فرمانِ رسول ۖ ہے ”مومن کے جان ، مآل اور عزت کی حرمت کعبے کی حرمت سے بھی زیادہ ہے ” پھر؟ اس طرح مومن کے گھر کی حرمت پامال کرنیوالا کِس شریعت کے مطابق شہید کہلائے گا؟ آج کل تو ہندو اور سِکھ بھی اپنے مرنیوالوں کے لیے ”شہید ”کا لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن کسی حکومت کا شہید سرکاری اختیار کے نام پر شہید اور باغی ڈیکلیئر کیا گیا کتنا عرصہ ٹائٹل برقرار رکھ سکتا ہے؟ شہادت تو وہ ہے جو یومِ آخرت شہادت قرار پائے گی۔ یزید کا کسی کو باغی کہہ دینا اگر سند ہوتی تو امام حسین علیہ السلام آج سارے زمانوں کے امام نہ ہوتے اور”میدان کربلا ”آج حق پرستوں کے لیے ”مشعلِ راہ ”نہ ہوتا۔ لاہور میں قوم کا ایک سپوت حکومت کی ہٹ دھرمی، نالائقی، نااہلی اور آئین و قانون کی خلاف ورزی کا شکار ہو گیا۔ حکمران و افسران نے اپنی لاقانونی حرکت کے لیے قوم کے ایک سپوت کو مروا دیا اور اب اپنے گناہ کو چھپانے کے لیے حکومت کے ہاتھوں اس قتل کو ”شہادت ”کے لبادے میں اوڑھ کر گھر والوں کو تسلی اور قوم کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔

مائوں کے بیٹے ہمیشہ حکمرانوں نے ایسے ہی مروائے ہیں۔ وہ نوجوان ملک و قوم کی خدمت کے لیے پولیس فورس میں آیا تھا اور ملک کے آئین و قانون نے اسے یقین دہانی کرائی تھی کہ ماورائے آئین و قانون اس سے کوئی کام نہیں لیا جائیگا اور نوجوان نے بھی حلف دیا تھا کہ ماورائے آئین کسی اقدام کا وہ بھی کبھی حصہ نہیں بنے گا۔اب بتایا جائے کہ پولیس گئی کیوں تھی کانسٹیبل کے قاتل/ ملزمان کے گھر ؟ کیا ”آئین پاکستان ”ہر شہری کو ”پرامن احتجاج ”کا حق نہیں دیتا؟ اگر قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر پولیس گھر میں گھسی ہے تو پولیس کا کانسٹیبل شہید نہیں ہے

اور نہ ہی عدالت سزا دے سکے گی؟؟ مومن کی جان و مال اور عزت کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے بھی زیادہ افضل قرار دیا گیا ہے اور کوئی کسی مومن کی چادر اور چار دیواری کو پامال کرے تو وہ شہید نہیں ہو سکتا چاہے وہ پولیس کا بندہ ہو یا فوج کا؟ قرآن و سنت کے حکم تو اپنی جگہ آئین و قانون نے بھی پابند کیا ہے کہ وارنٹ کے بغیر کسی کے گھر داخل نہیں ہو سکتے اور نہ پکڑنے جا سکتے ہیں؟؟ آئین نے احتجاج کا حق دیا ہے اور پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے۔پھر پکڑ دھکے کس لیے؟؟ افسران اور ملازمین حکومت کا غیر آئینی و غیر قانونی حکم ماننے کے پابند نہیں۔

اگر حکومت کو خوش کرنے کے لیے افسران نے اور افسران کو خوش کرنے کے لیے اہلکاروں نے کسی مسلمان کی چادر اور چار دیواری پامال کی ہے اور آئین و قانون کے مطابق وارنٹ کے بغیر گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے یا گھر میں گھسے ہیں تو قطعی طور شہید نہیں ہیں اور نہ ہی عدالت سزا دے پائیگی۔ اس کانسٹیبل کی قاتل حکومت ہے جس نے احتجاج کے بنیادی ، آئینی و قانونی حق کو روکنے کے لیے غیرقانونی احکامات جاری کیے ۔

اور افسران نے ان احکامات پر آئینی و قانونی نقط نظر لکھ کر حکومت کو آگاہ کرنے کی بجائے اہلکاروں کو غیر قانونی احکامات کی تعمیل کے لیے استعمال کیا؟؟ ”میدانِ کربلا ”نے یہ فلسفہ اور اصول طے کر دیا ہے کہ غیر اسلامی، غیر شرعی و غیر قانونی حکم دینے والا حاکم ، حکومت اور غیر قانونی حکم ماننے والے سب اہلکار بھی قصور وار ہیں۔افسران کو آئین کے مطابق قانون کی پاسداری و عملداری یقینی بنانے کے لیے فورس دیکر ”پاورفل ”کیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی آئین و قانون کے مطابق اختیارات کے استعمال کے طریقِ کار کی SOPکے اندر رہ کر قانون کے نفاذ کا سختی سے پابند کیا گیاہے ۔

افسران کو ”شتر بے مہار ”نہیں چھوڑا گیا اگر ٹنڈو آلہ یار سندھ کی ”جِندو مائی ”کے بیٹوں کے قتل کیس کی طرح فورس کا غلط استعمال کیا جائیگا تو حکم دینے والے کو ”پھانسی ”ہو گی اور اہلکاروں کو عمر قید کی سزا؟ حکم دینے والا چاہے فوج کا حاضر سروس میجر ارشد جمیل ہی کیوں نہ ہو؟میرے اسی موقف کی سابق ڈپٹی وزیراعظم اعظم پاکستان،سابق وزیراعلی پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کونسا شہید اور کیسا شہید؟احتجاج کے دوران ہونیوالے واقعات کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیئے ۔۔ پولیس اگر جھوٹی ایف آئی آر ( سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے گھر سے کلاشنکوف برآمدگی کیس اور موجودہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ پر بھاری منشیات کی برآمدگی کا کیس ۔۔ عام شہری کا تو ذکر ہی کیا ؟؟ ) جانبدارانہ تفتیش، جھوٹے گواہ اور بوگس ریکوری کر سکتی ہے ملزم کی جامہ تلاشی میں برآمد ہونیوالی رقم ہڑپ کرنا تو عام معمول ہے؟ اور قتل کر کے مقتول پر پولیس مقابلہ بنانا بھی عام ہے راولپنڈی ڈویژن کے 85 پولیس مقابلوں میں سے صرف ایک پولیس مقابلے کی انکوائری ہوئی ہے آج تک ۔۔

تو وہ FAKE ENCOUNTER ثابت ہوا لیکن پھر بھی وہ جھوٹی FIR درج کرنیوالا ایس ایچ او اور اس سے جھوٹی ایف آئی آر درج کروانے والے ڈی پی او، ایس پی انویسٹیگیشن ، اے ایس پی اور ساتھی ایس ایچ او دھڑلے سے نوکری کر رہے ہیں۔ محکمانہ کاروائی کا نظام سرے سے ختم ہو چکا ہے۔ جوڈیشل انکوائری میں تمام واقعات گرفتاریوں سے لیکر ، کارکنان پر لاٹھی چارج ، آنسو گیس ، فائرنگ، ربڑ کی گولیوں کا استعمال ، کارکنان کی طرف سے پتھرا ، پولیس پر تشدد، ماڈل ٹان میں کانسٹیبل کمال احمد کا قتل ( چادر اور چار دیواری کی پامالی ہے قتل اور شہادت کا اصول بھی طے کیا جائے؟ سیاسی پارٹی کے کارکنان اور قائدین کے بیانات کا بھی جائزہ لیا جائے؟ اشتعال کا یہ ماحول حکومت کی آئین شکنی اور ناقص حکمت عملی سے پھیلا یا قائدین کے بیانات اور کارکنان کی وجہ سے ملکی معیشت اور عوامی املاک کا نقصان ہوا۔ کنٹینر پکڑنے اور پرائیویٹ مالکان کے کنٹینرز کی ادائیگی بارے بھی فیصلہ دیا جائے۔۔