Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

بر صغیر کی معیشت و ثقافت کے حالیہ سات عشرے

تحریر:میاں انوارالحق رامے

374
Spread the love

سترھویں اور اٹھارویں صدی میں یورپ کو سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہو گئی تھی. اٹھارویں صدی میں اہل یورپ کی طرف یلغار سے پے ہندوستان ایک عظیم الشان اقلیم تھا. حملہ آوروں کی یلغار اور داخلی جنگ و جدل سے تباہ ہوتی ہوئی مغل سلطنت کی معیشت عالمی پیداوار کا 24.4فیصد تھی. نئی دریافت شدہ دنیا امریکہ کے وسائل کا استحصال کرنے, غلاموں کی تجارت, اور ابتدائی صنعتی ایجادات کے باوجود 1700ء میں پورے یورپ کے معاشی پیداوار عالمی معیشت کا 23.3فیصد تھی. جب 1947ء میں برصغیر پاک و ہند سے انگریز رخصت ہوا تو ہندوستان کا عالمی معیشت میں حصہ کم ہو کر صرف 2فیصد رہ گیا تھا. یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ عالمی جنگوں سے آنے والی تباہی کے اثرات سے یہ علاقہ محفوظ رہا تھا. غیر ملکی حکمرانوں نے برصغیر پاک و ہند کے وسائل کا دل کھول کر استحصال کیا لیکن اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ہندوستان کو انتظامی ڈھانچے, جدید قوانین, تار, ریلوے, طبی سہولتیں, آبپاشی اور تعلیم کی مدد سے جدید دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا تھا. بر صغیر کے عوام کی اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں آزادی اور تقسیم کا, معاملہ مذاکرات کی ٹیبل پر طے ہو گیا تھا. بدقسمتی سے پاکستان ربع صدی کے بعد ہی پاکستان دولخت یو گیا تھا. بنگلہ دیش کا قیام قطعی طور پر فوجی شکست نہی تھا بلکہ سیاسی بندوبست کی ناکامی کا خوفناک نتیجہ تھا.سابق برطانوی ہند 1971.1972ء میں تین حصوں میں بٹ گیا تھا. آج ہم اس بات پر غوروفکر کریں گے گزشتہ سات دہائیوں نے تینوں آزاد ممالک, انڈیا, بنگلہ دیش (1971)کی معیشتوں پر کیا اثرات ڈالے ہیں. 1972 میں موجودہ پاکستان کی آبادی 6کروڑ بیس لاکھ. بنگلہ دیش کی آبادی 6 کروڑ 90لاکھ اور بھارت کے آبادی 58کروڑ تھی. 1922ء میں پاکستان کی آبادی 23 کروڑ., بنگلہ دیش کی آبادی 16کروڑ90لاکھ ور بھارت کی آبادی ایک ارب 41کروڑ ہے. پانچ عشروں بعد بنگلہ دیش کی آبادی پاکستان سے 6کروڑ کم ہے. بھارت کی آبادی میں اوسط کے حساب سے اڑھائی گنا اضافہ ہوا ہے. اسی محدود عرصے میں پاکستان کی آبادی چار گنا بڑھ گئی ہے. آبادی میں ہوشربا اضافہ کسی ملک کی معیشت, تعمیر و ترقی کیلئے وبال جان ہوتا ہے.

یہ اضافہ ترقی کا نشان نہی ہوتا بلکہ تباہی و بربادی کا سیاہ نشان ہوتا ہے. آبادی میں اضافہ معیار زندگی میں تنزلی کا سبب بن جاتا ہے. پاکستان جیسے ملک کیلئے جو پہلے ہی ایک 133ارب ڈالر کے قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ہمیں اس سال سود کی ادائیگی اور تجارتی اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے کم از کم 32ارب ڈالر کی ضرورت ہے سالانہ مزید پچاس لاکھ بچوں کی تعلیم, صحت اور روزگار کی ضمانت دینا ناممکنات میں شامل ہے. ہمارے ہاں تعلیم اور صحت کو اہمیت نہی دی جاتی ہے یہ دونوں اہم شعبہ جات ہماری ترجیحات میں شامل نئے ہیں.ماہرین معیشت نے ملکوں کی ترقی جاننے کیلئے بین اقوامی سطح پر پیمانے بنا رکھے ہیں. ان پیمانوں میں ایک پیمانہ شیر خوار بچوں کے شرح اموات کا بھی ہے. 1972ء میں پاکستان میں شیر خوار بچوں کے شرح اموات 139 تھی جو اب کم ہو کر 56.8 ری گئی ہے. بنگلہ دیش کی. شرح اموات 164 تھی اب کم ہو کر 22.6 ری گئی ہے. بھارت میں 1972ء میں شرح اموات 137تھی جو اب کم ہو کر 27.6 رہ گئی ہے. عالمی سطح پر شیر خوار بچوں کی شرح اموات 26.7 ہے. جس میں براعظم افریقہ کے غریب ترین ممالک بھی شامل ہیں. نتیجہ کے اعتبار سے بنگلہ دیش کی اوسط شرح اموات عالمی معیار سے بہتر ہے اور ہندوستان عالمی معیار کے قریب پہنچ رہا ہے. پاکستان کو ہر طرف سے شرمندگی کا سامنا ہے. بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی میں عورتوں کا کردار قابل تعریف ہے. عورتوں کی خوشحالی اور شعور نے شیر خوار بچوں کی شرح اموات کو عالمی معیار سے بہتر کر دیا ہے. تعمیر و ترقی کا ایک اور عظیم الشان پیمانہ ہے وہ ہے شرح خواندگی. 1972ء میں بنگلہ دیش کی شرح خواندگی 47فیصد تھی. جبکہ موجودہ پاکستان کے خطے کے شرح خواندگی 21.7فیصد تھی. بنگلہ دیش کے مقابلے میں ہمارے علاقے کی شرح خواندگی آدھی تھی. بنگلہ دیش کی آبادی سات کروڑ میں ایک کروڑ کے قریب ہندو تھے. مشرقی پاکستان میں ہندو آبادی کی حالت زار انتہائی پریشان کن تھی. اکتوبر 1950 ء میں جوگندر ناتھ منڈل نے مرکزی حکومت کی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا. جوگندر ناتھ کا استعفیٰ بھی مشرقی پاکستان میں ہندوؤں کی حالت زار کی نشاندہی کرتا ہے.

بنگال برصغیر پاک ہند کے ان علاقوں میں شامل تھا جہاں پر انگریز بندوبست کا آغاز 1757ء سے ہو گیا تھا. بنگال دو برس تک تعلیم میں پنجاب اور سندھ سے آگے تھا. تقابل کیلئے یہ حقیقت کافی و شافی ہے کہ بھارت کی شرح خواندگی پچاس برس پیشتر 34.4 فیصد تھی. یعنی بنگلہ دیش سے کافی پیچھے تھی. آج پچاس برس بعد پاکستان میں شرح خواندگی 58فیصد ہے. اور بنگلہ دیش میں 74.6فیصد ہے. بھارت میں شرح خواندگی 81فیصد ہے. موجودہ دور میں عالمی شرح خواندگی 86.3فیصد ہے. بھارت عالمی شرح خواندگی کے قریب پہنچ چکا ہے. بنگلہ دیش میں شرح خواندگی کی رفتار بھارت کے مقابلے میں سست ہے. بنگلہ دیش شرح خواندگی کے حوالے پاکستان کے مقابلے سبقت لئے ہوئے ہے. یہ سبقت 16 فیصد زیادہ ے. یہ بات بھی شرح خواندگی کے حوالے سے یاد رکھنی چاہیے شرح خواندگی کا قطعی طور پر یہ مفہوم نہی ہے کہ معیار تعلیم بھی بہتر ہو گا بھارت ائ ٹی کی برآمدات سے بلامبالغہ 130 ارب ڈالر سالانہ کماتا ہے. ہمارے ملک میں عام سرکاری تعلیمی ادارے آکاس بیل کی طرح آگے ہوئے ہیں. ہر چوتھے میل پر آپ کو ایک ہائی سکول کی عمارت نظر آئے گی. ہم صرف بچوں کو سوشل سائنسز پڑھا کر سمجھ رہے ہیں کہ ہم ترقی کے شاہ راہ گامزن ہو جائیں گے. ابتدائی طور پر ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ٹیکنیکل تعلیم کے اداروں کو اہمیت دیں . دنیا بھر میں نینو ٹیکنالوجی اپنے اثرات مرتب کر رہی ہے.ہم ابھی تعلیم کی ابتدائی منزلوں سے آشنا ہو رہے ہیں.پاکستانی قوم کو آبادی کے حوالے سے شدید غور و فکر کے ضرورت ہے. جب تک آبادی پر کنٹرول نہی کیا جائے گا اس وقت تک ہم مشکلات کا شکار رہیں گے. آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈر ز کا اعتماد حاصل کیا جائے اور اس کیلئے مشترکہ قومی سطح پر لائحہ عمل اختیار کیا جائے. بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر 560ارب کے قریب ہیں اور پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر کے قریب ہیں.ہمارا میڈیا بھی بس سیاسی معاملات کو اہمیت دیتا اس کے علاوہ معیشت, سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کو خاطر میں نہیں لاتا ہے. سارے چینل پر سیاست دانوں چھائے ہوئے بات تو تکار سے شروع ہوتی ہے اور گالم گلوچ تک منتج ہوتی ہے. تعلیم اور سائنس اور صنعت و حرفت کے حوالے سے آپ کو کوئی رہنمائی میسر نہی ہے. اٹھو پاکستانیوں زمانہ قیامت کی چال چل گیا ہے.