Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

!دونوں ہاتھوں سے محروم انجینئر محمد ذیشان کی داستان

تحریر :ریاض الرحیم کولسری

106
Spread the love

اگر انسان میں محنت کرنے کی لگن ، منزل پانے کی جستجو ، کامیابی حاصل کرنے کی ہمت ہو تو اسکے سامنے معذوری بھی معنی نہیں رکھتی ۔ ضلع اوکاڑہ کی سر زمین کا باہمت و خوددار نوجوان محمد ذیشان جو اپنے دونوں ہاتھ ضائع ہونے کے باوجود بلند حوصلوں سے کامیابی کی منازل طے کرنے میں مصروف عمل ہے ۔ 1998 میں پیدا ہونے والے اس بچے نے ابھی کھیل کود ، سیر وتفریح ، شرراتیں ، ہنسی مذاق کو بھی صحیح انداز میں انجوائے نہیں کیا تھا کہ 2007 گیارہ ہزار وولٹ بجلی کے تاروں نے اسکی زندگی تاریک بنا دی ۔ اسکے دونوں ہاتھہ ضائع ہوگئے ۔ اسکے والد محمد نعیم واپڈا میں ایک چھوٹے ملازم تھے ۔ انکی والدہ کنیز فاطمہ گھر کے امور خانہ داری سر انجام دے رہی تھیں ۔ بچے کی یہ خطرناک حالت کو دیکھ کر جیتے جی مر گئے ۔ ہسپتالوں کے چکر کاٹنے کے بعد ایک مسیحا کی صورت میں شالامار ہسپتال لاہور میں چیرٹی ہاؤس سے رابط ہوا ۔ جہاں پر محمد ذیشان کو امریکہ میں علاج کے لئے لے جایا گیا ۔

دنیا بھر کی تکلیفوں کے بعد ایک آس و امید پیدا ہوئی ۔ یوں امریکہ کے باصلاحیت ڈاکٹروں کی ٹیم نے اسکے دونوں ہاتھوں کی جگہ مصنوعی آلات کے ذریعے ہاتھ لگا دیئے۔ امریکہ میں مصنوعی ہاتھ لگنے کے بعد میری زندگی ہی تبدیل ہوگئی ۔ پاکستان واپسی پر اسکو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ مگر اس نے ہمت نہ ہاری اپنی تعلیم جاری رکھنے کو ترجیح دی ۔ والدین و استاتذہ کی انہتائی نگہداشت و محبت نے اسکو کامیاب انسان بننے میں عملی کردار ادا کیا ۔ صوفہ ایجوکیشن ہاؤس سے میٹرک ، پنجاب کالج سے آئی سی ایس کی ۔ بعد ازاں اسکی خواہش کے مطابق ساوفٹ انجینئرنگ کے لئے کامسیٹس یونیورسٹی ساھیوال میں داخلہ لے کر دیا گیا۔ پہلے ہی سمسٹر میں ایک دوست محمد عمران کی مدد سے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ دونوں ہاتھوں کی جگہ مصنوعی ہاتھوں سے ایک کمپیوٹرائزڈ گاڑی تیار کی۔ کامیسٹس یونیورسٹی ساھیوال میں ایک ” نیٹ ورکنگ پراجیکٹ ” جسکو آواز سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ گاڑی کو موبائل ایپ کی مدد سے چلایا جاتا ہے۔ اسکو وائس کمانڈ دیتے ہوئے آگے، پیچھے ، دائیں ، بائیں ، کیا جاسکتا ہے۔

محمد ذیشان کو چند روز قبل کامسیٹس یونیورسٹی ساھیوال کے کانووکیشن میں انہتائی پزیرائی کے ساتھ ” ساوفٹ ویر انجینئر ” کی ڈگری دی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد افضل تبسم ڈائریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد ، ڈاکٹر نذیر احمد ظفر ڈائریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی ساھیوال ودیگر استاتذہ ، طلبا و طالبات ، شرکاء نے کھڑے ہو کر اس باہمت نوجوان کو خراج تحسین پیش کیا ۔ یہ وہ نوجوان جس نے اس نے گاڑی چلانے سے فٹبال ، کرکٹ ، بیڈمنٹن کھیلتے ہوئے دنیا کو ایک سبق دیا۔ اس نوجوان کا شمار ان عظیم نوجوانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے معذوری کو بہانہ نہیں بنایا۔ اپنے مصنوعی ہاتھوں ، پاؤں کی انگلیوں سے کمپیوٹر بورڈنگ ، کمپیوٹر گیمنگ ، ڈرائیونگ ، لکھنے کا آغاز کیا۔ عام صحت مند مکمل انسان کی طرح کام کرنا ، کھیل کود ، سیر وتفریح ، پر توجہ دے کر اپنی محرومی کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ محمد ذیشان ان لوگوں کے لئے ایک رول ماڈل تھا جو خوف کس شکار تھے ۔ جو ڈرتے ، گھبراتے تھے۔ ان لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کیں ۔ مصنوعی ہاتھوں اور پیروں سے خوف زردہ لوگوں کو ایک حوصلہ بخشا ۔ دونوں مصنوعی ہاتھوں سے کام کرنے والے محمد ذیشان دنیا کو بتا دینا چاہتا ہے کہ جب حوصلے بلند ہوں تو منزل آسان ہوتی ہے ۔ اس نے انہی مصنوعی ہاتھوں سے گاڑی چلانی شروع کی ۔

 جس کے بعد وہ ایک مکمل ڈرائیور بن گیا ۔ اس نے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لئے متعدد بار ٹریفک سنٹر کے چکر چکر لگائے ۔ مگر تاحال اسکو لائسنس جاری نہ کیا گیا ۔ اس نے اپنی زبانی بتایا کہ جب اسکو امریکہ مصنوعی ہاتھوں کے لئے لے جایا گیا تب وہاں جو محسوس کیا ۔ اس نے بتایا کہ ھمارے وطن عزیز میں مجھ جیسے اپاہج یا سپشل پرسن کو ” ڈی گریڈ ” کیا جاتا ہے ۔ مجھ جیسے لاکھوں سپشل پرسن کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور نہ ہی حوصلہ و ہمت کی بات کی جاتی ہے ۔ جبکہ امریکہ کے معاشرے میں واضح فرق محسوس کیا ۔ امریکہ میں وہاں کے لوگ ” پش اپ ” کرتے ہیں ۔ وہ بہت کچھ کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔ ان لوگوں نے مجھے اتنا حوصلہ دیا اور کہا کہ ” آپ سب کچھ کرسکتے ہیں ” پھر انکی ہدایت کے مطابق عام صحت مند مکمل انسان بننے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے مکمل اعتماد سے کام کرنے کی ہدایت کی ۔ انکے مطابق وطن عزیز میں بسنے والوں سے کہا کہ ہاتھ چھوڑنے کی بجاے ، ہاتھ تھامنے کو ترجیح دیں ۔ دنیا کے ان غیر مسلم ممالک کی طرح سسکتی انسانیت پر توجہ دیں ۔ گرتے کو سہارا دیں ۔ میرے جیسے لاکھوں افراد آپکی توجہ کے مستحق ہیں ۔ آپکی چھوٹی سی کوشش ، کاوش ، مسکان ھمیں نیا حوصلہ بخش سکتی ہے ۔ ھماری مختصر خواہشات ، ھماری آنکھوں میں بہت کم خواب ھیں ۔ جن کی تعبیر آپکے ہاتھوں میں ہے ۔ محمد ذیشان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ لوگ ان کا سہارا بین جو واقعی آپکی توجہ چاھتے ھیں ۔