Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

عمران خان کی نئی سیاسی چال

مدینتہ اولالیا سے / اعجازترین

58
Spread the love

حالیہ دنوں میں توشہ خانہ سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان السعود یو اے ای اور دیگر حکمرانوں کی طرف سے دی گئی گھڑی اور دیگر ممالک کی جانب سے ملنے والے قیمتی تحائف کوڑویوں کے بھاو لے کر مارکیٹ میں بیچنے کا چرچا زبان زدہ عام ہے اچانک لندن سے تسنیم حیدر نامی ایک کردار کو لاؤنچ کیا گیا

جس نے مسلم لیگ (ن ) کے قاہد میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز پر ارشد شریف شہید اور عمران خان کو قتل کرانے کی سازش کا الزام لگایا دیا تاکہ توشہ خانہ سے لوٹ سیل کے ذریعے تحائف حاصل کرکے کھلے بازار میں بیچ کر کھربوں اربوں روپے کمانے کے معاملے سے توجہ ھتائی جا سکے لیکن یہ معاملہ دبنے والا نہیں ہے کیونکہ عمران خان کی ساری حقیقت قوم پر آشکار ہو چکی ہے جسے منظر عام سے نہیں ہٹایا جا سکتا ممتاز قانون دان شہزاد سلیم خان ملیزئی ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ تسنیم حیدر کے بیان کی قانون میں کوئی حثیت نہیں ہے

اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ قانونی کاروائی کریں باڈی النظر میں یہ بیان سیاسی رنگ بازی کے سوا کچھ نہیں ارشد شریف شہید کے قتل اور عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بارے میں تحریک انصاف کے رہنماء فیصل وڈا کے بیان کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے تحیقات سے ہی اصل حقائق سامنے آ سکتے ہیں مراد سعید بھی فیصل وڈا کی تلقین کرتے ہوئے سیاسی پوائنٹ سکورنگ چھوڑ کر ارشد شریف شہید کے قتل بارے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرتے ہوئے تفتیش میں شامل ہوں تاکہ ارشد شریف کے قاتل قانون کے شکنجے میں آ سکیں اب ذرہ بات ہو جائے آرمی چیف کی تقرری کی ٹو بعض سیاسی جماعتوں کے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ آرمی چیف کی تقرری ہے

حالانکہ ایسی بات نہیں ہے یہ وزیراعظم کا آئینی و قانونی اختیار ہے کہ وہ جسے چاہیں آرمی چیف مقرر کریں حکومت نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے مشاورت مکمل کر لی ہےجلد ہی یہ تقرری ہو جائے گی اور آیندہ الیکشن بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے عمران خان نیازی بغلیں بجاتے رہیں گے اور انہیں صبر کرنے کے سوا کچھ نہیں ملنے والا دوسری طرف عنقریب تحریک انصاف کے پینجرے سے بہت سے پرندے اڑنے والے ہیں آیندہ الیکشن میں عمران خان کو شاید ملک بھر سے پورے امیدوار بھی نہ مل سکیں جنوبی پنجاب کے بہت سے بااثر افراد تحریک انصاف کو چھوٹے کی تیاریاں کر چکے ہیں 26 نومبر کے بعد یہ سلسلہ شروع ہونے والا ہے

عمران خان نے اپنے پونے چار سالہ دور میں جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ اپنے لاڈلے ( وسیم اکرم پلس ) عثمان بزدار کے ذریعے نظر انداز کرکے جو نارواسلوک روا رکھا عوام ان زیادیوں کو نہیں بھولے تحریک انصاف کے جنوبی پنجاب کے ممبران کو نہ ترقیاتی منصوبے دئیے نہ ملازمتیں دی گئیں نہ ہی کپتان نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کو علحیدہ صوبہ درجہ دیا بلکہ ایک لولا لنگڑا سیکرٹریٹ دیا جو آدھا تیتر آدھا بیٹر یعنی ملتان اور بہاولپور میں تقسیم اس سیکرٹریٹ میں تعینات سیکرٹری بھی بے اختیار تھے اصل اجتیارات لاھور میں ہی تھے

اسی طرح پی ٹی آئی نے اپنے ممبران اسمبلی کی وسیم اکرم کے کرپشن واویلا پر بھی کوئی توجہ نہ دی اس لئے ان ممبران کےپاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا کہ وہ تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دیں ورنہ عوام ان کا سیاسی مستقبل تاریک کردیں گے کیونکہ عمران نے جتنا چورن بیچنا تھا بیچ لیا اب مذید یہ چورن نہیں بکنے والا شہزاد سلیم خان ملیزئی ایڈووکیٹ کڑوی مگر سچی بات کہہ دیتے ہیں آنے والے دن تحریک انصاف کے لئے کچھ اچھے نظر نہیں آرہی رہے بہتر ہے کہ عمران خان نیازی اپنا رویہ تبدیل کریں اچھا سیاست دان بننے کی کوشش کریں رواداری برداشت کے ساتھ تحمل مزاجی اپنائیں مخالفین کو برداشت کرنے عدلیہ قومی سلامتی کے اداروں کا احترام سکھیں مار دھاڑ سے گریز کرتے کریں کیونکہ ملک اس کا متحمل نہیں یو سکتا

اس لئے ہرمسلے قانونی راستہ اختیار کریں اللہ پاک ہم سب کو قانون پر عمل کرنے اور قانوں کا احترام کرنے کے توفیق دے آمین