Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

آئین پاکستان اور اس کے تقاضے

میاں انوارالحق رامے

21
Spread the love

پاکستان بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اجتماعی کاوشوں کے نتیجے عالم وجود میں آیا تھا. قائد اعظم محمد علی جناح کی دلیرانہ اور دانشمندانہ قیادت نے دنیا کے نقشے ہر ایک ناممکن کو ممکن کرکے اس کو وجود بخشا تھا. پاکستان اپنی 75 سالہ تاریخ میں بحرانوں کی سرزمین ثابت ہوا ہے.ہم دو لخت ہو کر بھی اپنی مثبت شناخت کو بر قرار رکھنے میں کامیاب نہی ہو سکے ہیں. قدرت کاملہ کی تعزیرون نے ہمیں بار بار جگانے کی کوشش کی ہے لیکن ہم خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف رہے ہیں.

قدرت کاملہ اور عوام الناس کے اخلاص و اتحاد, ایثار و قربانیوں کی وجہ سے روبہ زوال ہوتے ہوئے بھی قائم و دائم ہے. پاکستان نے زندگی کے بعض شعبہ حیات میں محیر العقول کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں. عالم اسلام میں پاکستان وہ واحد ایٹمی ملک ہے جو دنیا کے مسلمانوں کیلئے ایک قابل فخر مقام پر متمکن ہے. لیکن سیاسی, اقتصادی اور انتظامی پستی کا یہ منظر ہے کہ ساڑھے سات عشروں کے روح فرسا تاریخ میں چار مارشلا لگ چکے ہیں. دو عشرون کو چھوڑ کرباقی ہمارا اقتصادی اور سیاسی وجود لرزہ بر اندام رہا ہے. ہمارا آئین وفاقی, پارلیمانی جمہوری ہے. لیکن یہ معرکہ آرائی ابھی تک جاری ہے کہ ملک کا اصل حکم ران کون ہے. سوال یہ بھی پریشان کن ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ کون کون کیسے حکمران بن گئے.

جو لوگ برسوں سے اپنے اہل خانہ سمیت سول پارٹی آف گورنس کے اجارہ دار ہیں. ہماری کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ برسوں سے اقتدار پر قابض لوگ اپنی مکارانہ چالوں, کہنہ مکرنیون, حرام دھن دولت کی بنا پر آج تک حکمران ہیں. ہماری اقتصادی اور معاشی حالت اس قدر دگرگوں ہے کہ امسال آبادی کا بڑا حصہ نان جویں کو ترس رہا ہے. انگنون میں چولہے سرد ہو چکے ہیں. فخر و غرور, تکبر اور لاف زنی ہمارے معاشرے کا جزو لاینفک بن چکا ہے. ہمارے قومی خزانے کے 8 ارب ڈالر کے مقابلے میں ہم سے الگ ہونا والا خطہ جسے بنگلہ دیش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے آج قومی خزانے میں کم و بیش 51 ارب ڈالر کو محفوظ کئے ہوئے ہے. . ہمارے سیاسی قائدین, تجزیہ نگار, کالم نویس, معاشرے کے حل و عقد کا زعم رکھنے والے لوگ ایک ہی تان پر آوازیں بلند کر رہے ہیں کہ پاکستان کا آئندہ آرمی چیف کون ہو گا. ہماری قوم اتنی فارغ البال ہے کہ ایک انتظامی تقرری کو زندگی کا سب سے اہم مسلہ بنا لیا ہے.

عملی طور پر گزشتہ سات ماہ ملک میں سیاسی, اقتصادی, معاشی بحران کے سائے گہرے ہو رہے ہیں. سب اہل فکر کی تان اس بات پر منتج ہوتی ہے کہ ملک ڈیفالٹ ہو رہا ہے. بظاہر کوئی شارٹ کٹ نظر نہی آ رہا ہے. ہماری کرپشن, اور مکرو فریب سے آلودہ قومی معیشت کے سرخیل جناب اسحاق ڈار معیشت کی بہتری کیلئے تریاق ثابت ہونگے ان کی آمد بھی ڈالر کی اڑان کو روک نہی سکی ہے اور ملک بدستور معاشی بحران میں ہچکولے کھا رہا ہے. اب ہمارے موجودہ وزیر اعظم جو عرصہ دراز سے وزارت عظمی کا خواب دل میں جا گزین کئے ہوئے تھے ان سے لوگ توقع کر رہے تھے کہ وہ عوام کیلئے مسیح ثابت ہونگے مہنگائی کے جن کو قابو کریں گے اور اپنی اسپیڈ سے د ال روٹی کو لوگوں کی پینچ تک لائیں گے

شہباز شریف وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود احساس کمتری کا شکار ہیں خدمت تو دور کی بات ہے ان کی جدہ اور لندن یاترا ختم ہونے کا نام ہی لے رہی ہے. سیاسی تجزیوں کا رخ آرمی چیف کی تقرری کی بین بجانے اور ملک کو سری لنکا جیسا بنانے پر لگا ہوا ہے. ہمارا ملک معدنی وسائل سے بھرپور ملک ہے. اور ہماری قوم کوئی مہم جو قوم نہی ہے امن اومان سے رہنا ان کا وظیفہ حیات ہے. اقبال نے جنگ آزادی کیلئے ضرور کہا تھا جھپٹنا, پلٹنا, پلٹ کر جھپٹنا, لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ , اقبال نے قوم کو ہوشیاری اور خبردار رہنے کا درس دیا تھا. ہماری مہم جوئی عجب رنگ اختیار کر چکی ہے فاختہ امن کی علامت ہے ہم ملک کے بعض حصوں میں اپنے ہی شاہینوں کا لہو بہانے میں باز نہی آتے ہیں .

اس کار محال کیلئے درباری سرکاری صحافت کو بھی ہم رکاب کر لیتے ہیں. سرکاری ٹی وی چینل امن کا پیغام دینے کی بجائے آتش فشانی کا منبع بنے ہوئے ہیں. پاکستان کا آئین نام کے اعتبار سے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن عملی اعتبار سے ہمارا قومی رویہ اس کے بالکل علی الرغم ہے. ہمیں اس اپنی سنہری تاریخ پر فخر کرنا چاہیے جس میں قیام پاکستان سے لیکر دفاع پاکستان تک شہدا نے اپنا مقدس خون بہایا تھا. پاکستان بدلتے موسموں کی سر زمین ہے. اور سیاسی موسم بھی تیزی سے رنگ بدلنے کیلئے مستعد ہیں.جب ملکی سیاست اندھیروں کی لپیٹ میں آ جاتی ہے تو انقلابی بگولے وطن کے ہر محب وطن فرد کو متاثر کر دیتے ہیں. لوگ پھر قافلہ در قافلہ انقلابی جدوجہد میں شریک ہو جاتے ہیں. جب مایوسی کی برفانی ہواں میں انسانیت کا دم گھٹ جاتا ہے تو بہاروں کی آمد سندیسہ ساتھ ہی آ جاتا ہے. ہر رات کی تاریکی کے بعد جس طرح روشنی کا سورج طلوع ہوتا ہے اسی طرح دھوکہ دہی فریب کاریوں, کہنہ مکرنیاں کے بعد حق و سچ کا آفتاب طلوع ہوتا ہے جو سازشوں اور سازشی عناصر اور سہولت کاروں کو ذلت و رسوائی کا رزق بنا دیتا ہے. اب وقت دعا گزر چکا ہے دعاں نے اب جدوجہد کا عملی روپ دھار لیا ہے. مایوسیوں اور تاریکیوں کے ناساز گار ماحول کے اوٹ سے قافلہ جمہوریت کا آغاز ہو چکا ہے. لوگ شعوری اور فکری طور پر بیدار ہو چکے ہیں. لوگ جوق در جوق قافلہ جمہوریت اور انقلاب کے سرخیل بنتے جا رہے ہیں.

اب قافلہ جمہوریت کے تپش سے رجعت پسند قوتیں پگھل رہی ہیں. آرام و سکون سے بے پرواہ لوگ اپنی اپنی چتا کو اٹھائے منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہیں. رت و موسم بدل چکا ہے فضا میں سیاسی آلودگی ختم ہو رہی ہے طبل جنگ بج چکا ہے.گرہن زدہ حکومت بیساکھیوں کے سہارے آخری بے بسی کی سانسیں لے رہی ہے. آمد بہار کی انقلابی فضائیں ہواں کو معطر کر رہی ہیں. طاقت و جرات کے چشمے ابلنے کیلئے بے تاب ہیں. ہر کوئی مسلط شدہ ٹولے سے بیزاری کا اظہار کر رہا ہے. صرف غم و غصے کا اظہار ہی نہی کر رہا ہے بلکہ اس پراگندہ وحشت زدہ حکمرانی کو بدلنے کیلئے سرگرم عمل ہے. زمانے کے انداز بدل گئے ہیں, نیا راگ ہے ساز بدل گئے ہیں ( سوشل میڈیا) اور پاک سرزمین میر و سلطان سے بیزار ہے پاکستانی عوام نے ملک بھر کے رجعت پسندوں, اقتداری اور جمہوری وارثت سے استفادہ کرنے والے لوگوں کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا ہے.
ملک پر قابض اشرافیہ راہ نجات کیلئے مکر و فریب سے کام لے رہی ہے.پاکستان کے پژمردہ اور پسے ہوئے مفلوک الحال لوگ اچھائی اور برائی کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو چکے ہیں. اب ملک میں کوئی بھی مکارانہ سیاست کا داعی ان کو دام فریب میں لانے کی پوزیشن میں نہی ہے. لوگوں کے اندر حقائق شناسی کے روح بیدار ہو چکی ہے لوگ شعوری طور پر اپنے حقوق سے آگاہ ہو چکے ہیں. اب اس کا ایک ہی حل ہے گرہن زدہ حکومت کو مزید مہلت نہ دی جائے ممکنہ حد تک جلد منصفانہ, غیر جانبدارانہ, عادلانہ انتخابات کا اہتمام کیا جائے.ہر سیاسی جماعت کو اپنے انتخابی منشور کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کرنا ہوگا کہ ملک کے موجودہ حالات کے دلدل سے نکلالنے کیلئے ان کے پاس ماہرین کی کونسی جماعت موجود ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہو گا.

پاکستان کے 23 کروڑ عوام کی کشتی کو معاشی, اقتصادی, سیاسی گرداب سے نکالنے کیلئے ان کے پاس کیا عزم و حوصلہ اور تراکیب ہوں گی.