Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

کےالیکٹرک کوگردشی قرض کےحکومت کے 58 ارب فوری واپس کرنےکاحکم

29
Spread the love

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے کے الیکٹرک کو گردشی قرض کے حکومت کے 58 ارب فوری واپس کرنے کا حکم دے دیا۔قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس ہوا جس میں کے الیکٹرک حکام 2008 میں کمپنی کے گردشی قرض کی رقم بتانے میں ناکام رہے۔ارکان کمیٹی نے اعتراض کیا کہ ایجنڈے پر ہونے کے باوجود تیاری نہ کرنا فراڈ ہے، آئندہ اجلاس میں چیک لائیں میڈیا کے سامنے قوم کے حوالے کریں۔چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ کے الیکٹرک حکومت پاکستان کو 2008 کے گردشی قرض کی رقم واپس کرے ، کے الیکٹرک حکومت پاکستان کے 58ارب فوری واپس کرے، آئندہ اجلاس میں چیک لیکر آئیں ایسٹ انڈیا کمپنی نہ بنیں، پاور سیکٹر میں گردشی قرض کی بنیاد ہی کے الیکٹرک ہے،

2007میں کل گردشی قرض 105ارب تھا جن میں سے 77ارب کے ای کا تھا۔چیئرمین نیپرا نے بریفنگ دی کہ نیلم جہلم پاور ہاس بندش سے قومی خزانے کو ماہانہ 10ارب کا نقصان ہو رہا ہے، ہمیں مہنگے پاور پلانٹس چلانے پڑ رہے ہیں، جس سے بلوں میں صارفین کو دس ارب کا نقصان ہورہا ہے، نیلم جہلم کی پاور ہاوس کی مرمت پر دو ارب پچاس کروڑ لگیں گے، اگر منصوبے کی مرمت پر چھ ماہ لگتے ہیں تو ساٹھ ارب کا نقصان ہوگا، لیکن چسطرح کام ہورہا ہے بحالی میں ایک سال لگے گا، اگر ایک سال لگا تو ایک سو بیس ارب لگیں گے۔واپڈا حکام نے کہا کہ ابھی ٹنل پانی سے بھرا پڑا ہے ،

پانی خشک کرنے میں تین ماہ لگیں گے، ٹیل ریس ٹنل کو پورا کنکریٹ کیا تو تین سے پانچ سال لگیں گے۔چیئرمین نیپرا نے بھی کہا کہ یہ ادھورے منصوبے کو دوبارہ شروع کرینگے پھر نقصان ہوگا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاور ڈویژن جس طرح کام کر رہا ہے اسکو درست کرنے کیلئے وزیرستان سے خودکش بمبار منگوانا پڑے گا۔نندی پور پاور پلانٹس کے ٹینڈر میں بے قاعدگیوں پر حکام تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ جس پر ارکان کمیٹی نے کہا کہ پار ڈویژن کے افسران کمیٹی کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دیتے ۔ایڈیشنل سیکریٹری پاور ڈویژن نے نندی پور حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن آپ لوگوں کی وجہ سے شرمندہ ہو رہا ہوں یا

تو آپ کام کریں یا استعفا دے دیں۔سینیٹر فدا محمد نے بھی کہا کہ نندی پور حکام کبھی بھی اجلاس میں تیاری کر کے نہیں آتے، اتنے سینئر لوگ ہیں انکو کچھ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں نندی پور حکام نے کہا کہ ایک کمپنی نے بولی دی جبکہ اصل میں بولی دینے والی تین کمپنیاں تھیں، ایرانی کمپنی بھی بولی دینے میں دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم اس کو نکال دیا گیا ، اس وقت کی بولی کی منظوری دینے والے افسران کا بتائیں ان سے پوچھیں گے، ٹینڈر میں بے ضابطگی واضع ہے اس وقت کے افسران کا بتائیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت پاور ڈویژن نے غیر قانونی طور پر مدت ختم ہو جانے پر کیپکو کو نومبر 2021 میں توسیع دی، اس کام کی منظوری نیپرا سے بھی نہیں کی گئی۔