Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

شہدا ء کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، فوج کاسب سے پہلا کام اپنی سرحدوں کا دفاع کرناہے:آرمی چیف

52
Spread the love

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ شہدا ء کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، فوج کاسب سے پہلا کام اپنی سرحدوں کا دفاع کرناہے، فوج نے فیصلہ کیا ہے سیاسی معالات میں مداخلت نہیں کریں گے، پاک فوج کی سیاست میں مداخلت غیر آئینی ہے،جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی، غیرملکی سازش ہو اور فوج خاموش رہے یہ گناہ کبیرہ ہے،اپنے خلاف جارحانہ رویے کو درگزر کرنا چاہتا ہوں لیکن صبر کی بھی ایک حد ہے،

سابقہ مشرقی پاکستان ایک فوجی نہیں بلکہ ایک سیاسی ناکامی تھی، وقت آ گیا ہے تمام فریقین ماضی سے سیکھیں، آگے بڑھناہے توعدم برداشت اورمیں نہ مانوں کارویہ ترک کرناہوگا، پاکستان سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے، امید ہے سیاسی جماعتیں اپنے رویئے پر نظرثانی کریں گی۔تفصیل کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بد ھ کے روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم شہداء کی تقریب سے الوادعی خطاب کیا ۔تقریب میں اعلی شخصیات ، سفارتکار، سول و عسکری حکام ، شہدا کے لواحقین اور غازی شریک ہوئے ۔ اس موقع پر جنرل باجوہ نے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا فوج کی چوالیس سال کی نوکری کے بعد آج میں یوم شہداء کی تقریب سے بطور آرمی چیف آخری خطاب کر رہا ہوں۔مجھے فخر ہے کہ میں چھ سال اس عظیم فوج کا سپہ سالار رہا ہوں۔شہداء پاکستان کے لواحقین اور غازیوں کو ان کی لازوال قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کر تا ہوں۔شہداء ہمارا فخر ہیں، قوم ان کی لازوال قربانیوں کو کبھی نہیں بھلائے گی۔پاک فوج شہداء کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔بطور سپہ سالار اپنی چھ سالہ مدت میں ہزاروں شہیدوں اور غازیوں کے گھر گیا وہاں شہید کے ہر وارث کو باحوصلہ پایا۔یقین دلاتاہوں کہ پاک فوج اپنے شہداء کے لواحقین کی ہرممکن مدد جاری رکھے گی۔آرمی چیف نے کہا فوج کا بنیادی کام جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کرنا ہوتا ہے تاہم فوج نے اپنی استعداد اور مینڈیٹ سے بڑھ کر ہر مشکل گھڑی میں قوم کی خدمت کی۔

آج شہروں اور دیہاتوں میں قائم امن کے پیچھے ہمارے شہداء کی قربانیاں ہیں۔جو قوم اپنے شہداء کی بھول جاتی ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔ آرمی چیف نے کہا سابق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالیسے کبھی کھل کر بات نہیں کی جاتی ہے۔سابق مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک فوجی نہیں بلکہ سیاسی ناکامی تھی۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت وہاں بانوے ہزار نہیں صرف چونتیس ہزار جوان دفاع وطن کر رہے تھے۔ہمارے چونتیس ہزار جوانوں نے دشمن کی تقریبا ساڑھے چار لاکھ فوج کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ قوم کو اپنے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا فوج کی سیاست میں مداخلت غیر آئینی ہے۔فوج نے فروری میں یہ فیصلہ کیا کہ فوج اب سیاسی عمل میں کبھی حصہ نہیں لے گی۔فوج پر تنقید سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن الفاظ کا غیر مناسب استعمال درست نہیں۔ایک جھوٹا سیاسی بیانیہ بنا کر فوج کی قیادت پر الزام تراشی کی گئی۔فوج کی قیادت کیخلاف غیر مناسب الفاظ میں مہم چلائی گئی۔فوج کی قیادت کے پاس اس جھوٹے بیانیے کا جواب دینے کیلئے کافی حربے موجودتھے تاہم ہم نے صبر سے کام لیا۔مگر صبر کی ایک حد ہے ،

میں اپنے اور فوج کے خلاف اس نامناسب طرز عمل کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔امید ہے تمام سیاسی جماعتیں بھی اپنے ماضی کے طرزعمل پر نظر ثانی کریں گی۔انہوں نے کہا بڑے وثوق سے کہ رہا ہوں کہ اس وقت پاکستان سنگین معاشی مسائل کا شکار ہے کوئی ایک سیاسی جماعت تنہا پاکستان کو اس معاشی بحران سے نہیں نکال سکتی۔ وقت آگیا ہیکہ تمام سیاسی جماعتیں اس صورتحال کا درست ادارک کر کے آگے بڑھیں۔سیاسی جماعتوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، دوہزار اٹھارہ کی حکومت کو سلیکٹڈ اور تحریک عدم اعتماد کے بعد ا?نے والی حکومت کو امپورٹڈ کہا گیا۔ہمیں یہ سوچ اور طرز عمل ختم کرنا ہو گا تاکہ جو بھی نئی حکومت آئے وہ الیکٹڈ ہو ہم سب نے متحد ہو کر پاکستان کی ترقی کیلئے کام کرنا ہے۔شخصیا ت کوئی بھی ہوں پاکستان نے انشاء اللہ آگے بڑھنا ہے۔