Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

کلیکٹر کسٹمز گلگت بلستان نثار احمد بااثر کرپٹ مافیا سے تنگ:ایف بی آر اسلام آباد خط لکھ دیا

149
Spread the love

اسلام آباد۔۔۔۔کلیکٹر کسٹمز گلگت بلستان نثار احمد نے بااثر کرپٹ مافیا سے تنگ آکر فرائض کی انجام دہی سے معذوری ظاہر کردی ہے ۔ تفصیل کے مطابق ممبر کسٹمز فیڈرل آف ریونیو اسلام آباد کے نام لکھے گئے خط میں کلیکٹر کسٹمز گلگت بلستان نثار احمد نے کہا ہے کہ انہوں نے11نومبر 2022 ءکو بطور کلیکٹر گلگت بلستان ڈیوٹی جوائن کی تاہم انہیں سسٹ(SUST) ڈرائی پورٹ پر ڈیوٹی /ٹیکسز کے فرائض انجام دینے میں ناساز گار حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،جہاں ٹیکس وغیرہ کے معاملات کی نگرانی انکی ذمہ داری تھی ۔انہوں نے لکھاکہ مثال کے طور پر مذکورہ ڈرائی پورٹ پر فی کنٹینر ڈیوٹی /ٹیکس کی اوسطا وصولی 2.8ملین روپے تھی ،اس کے باوجود یہ پورٹ ہر قسم کے کپڑے کی ریگولر امپورٹ کے طور پر جانی جاتی ہے (زیادہ تر فیبرکس کنٹینرز میں 30ٹن سے زائد سامان ،موبائل فون کے آلات ،کاسمیٹکس ،ٹائرز،گارمنٹس وغیرہ ہوتاہے )۔

دوران تحقیق یہ پتہ علم میں آئی کہ انتہائی کرپٹ کسٹمز اہلکار راجا وسیم بعض تاجر حضرات کی ملی بھگت سے ایک گروہ کی قیادت کررہا ہے جو2019میں اپنی تعیناتی کے بعد سے مجرمانہ طور پر منظم انداز میں ٹیکس چوری میں ملوث ہے ۔ملزم اہلکار کو 17ستمبر 2022ءکو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا اور چیف کلیکٹر آفس اسلام آباد کے سپرد کیا گیا ۔اس کے خلاف باضابطہ انکوائری شروع کی گئی جس میں انکی بدعنوانی و بے ضابطگیاں ثابت ہوگئیں ۔ممبر (ایڈمن اینڈ ایچ آر )ایف بی آر کو اسے نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش کے ساتھ چارج شیٹ کا مسودہ بھجوایا گیا ۔ذرائع کے مطابق اس نے بھاری ٹیکس چوری میں مدد دینے کےلئے رشوت کے طور پر 30لاکھ روپے جمع کئے ۔

بتایا گیا ہے کہ وہ جولائی 2022ء سے لیکر ڈی جی کسٹمز انٹیلی جنس فیاض احمد کو ساتھ ملائے ہوئے تھا جو بدلے میں اسے تحفظ فراہم کررہا تھا اور سسٹ ڈرائی پورٹ سے غیرقانونی کلیئرنس پر آنکھیں بند کئے رکھی تھیں ۔کلیکٹر کسٹمز گلگت بلستان نثار احمد نے مزید لکھا کہ جب راجہ وسیم کو ڈیوٹی سے ہٹایا گیا تو ڈی جی کسٹمز انٹیلی جنس نے اس کے خلاف انکوائری رکوانے کےلئے ممبر ایڈمن کے ساتھ دو گھنٹے کی ملاقات کی لیکن یہ کوشش رائیگا ں گئی تاہم وہ انکوائری اپنے دفتر ریفر کرانے میں کامیاب رہا اور یہ انکوائری انکے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد رضا کے پاس ہے ۔اس کے علاوہ سسٹ ڈرائی پورٹ پر ای آئی ایف اجازت کے حوالے سے مقامی تاجروں نے گلستان بلستان کی عدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے اجازت دینے کا حکم جاری کیا تاہم چیف کنٹرولر نے مجھے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کو کہا ۔

کیونکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اس حوالے سے قوائد وضوابط کو عدالت نے معطل نہیں کیا ہے اور نہ ہی سٹیٹ بینک اور وزارت تجارت کو اس میں فریق بنایا گیا ہے جس کے بعد مقامی تاجروں نے ایک اوراپیل دائر کی جس میں سٹیٹ بینک اور وزارت کو فریق بنایا گیا اورعدالت نے ای آئی ایف اجازت نامہ کے حوالے سے پہلے والا حکم ہی جاری کیا ۔میں نے بورڈ کومطلع کیا کہ اب مجھے عدالتی احکامات پر عمل کرنا ہوگا تاہم حیران کن طورپر چیف کلیکٹر نے مجھے دوبارہ ایسا کرنے سے منع کردیا ۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آئی اینڈ آئی کسٹمزاسلام آباد نے چار ڈی ڈیز بلاک کردئیے جس پر مقامی تاجروں نے ایک بار پھر عدالت میں اسے چیلنج کردیا ۔

عدالت نے انکے حق میں فیصلہ دیدیا اور مجھے اور ایڈیشنل ڈائریکٹر کو دوران سماعت زبانی حکم دیا کہ ان جی ڈیز کو کو ریلیز کیا جائے لیکن چیف کلیکٹر نے مجھے انہیں ریلیز کرنے سے منع کردیا اور سسٹ میں کسٹمز عملے کی جانب سے پہلے ہی معائنے باوجود دوبارہ انکا معائنہ کرنے کو کہا گیا ۔ انہوں نے مزید لکھا کہ بطور کلیکٹر مجھے اکتوبر میں سسٹ ڈرائی پورٹ پرہڑتال کا سامنا کرنا پڑا ۔اورتاجروں نے ایک ماہ کے اندرفی کنٹینر اوسطا ڈیوٹی2.8ملین سے بڑھ کر6.4ملین تک پہنچنے پر احتجاج کیا جو کہ غیر معمولی اضافہ تھا ۔مجھے ڈی جی کی جانب سے گزشتہ حکومت کے دور کے مقابلے میںڈیوٹی میں 123فیصد اضافہ ہونے کے بعد کنٹینرز کو روکنے کی صورت میں دباﺅ کا سامنا کرناپڑا ۔میرے ڈیوٹی جوائن کرنے سے پہلے فی کنٹینر2.8ملین روپے اوسطا ٹیکس /ڈیوٹی چارج کی جارہی تھی ۔

میں نہ یہ اعدادوشمار6.4ملین تک پہنچائے ۔ حیران کن طور پر اپنے منظور نظر راجہ وسیم احمد کے مفادات کے تحفظ کےلئے اس وقت ڈی جی آئی اینڈ آئی کی جانب سے کسی قسم کی بندش نہیں کی جارہی تھے ۔لہذا مذکورہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں بطور کلیکٹر آزادانہ فرائض کی انجام دہی میں بے بسی محسوس کررہا ہوں راجا وسم کی قیادت میں بااثر مافیا بندر گاہ پر منظم ٹیکس چوری کی وارداتوں میں ملوث ہے جس سے بندرگاہ پر کام متاثرہور ہا ہے اوریہاں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ۔مجھے بورڈ کی جانب سے کلیکٹر گلگت بلتستان اپنی ذمہ داریا ں جاری رکھے کے حوالے سے ایڈوائس درکار ہے ۔