Pakistan latest updates, breaking news, news in urdu

کب بدلے گا پاکستان

تحریر: اعجازعلی ساغر

21
Spread the love

14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا بابائے قائد حضرت محمد علی جناح رحمتہ ﷲ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی انتھک محنت اور اس قوم کی لازوال قربانیوں کے بعد ہی اس مقدس سرزمین پر مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا پاکستان بننے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ آبادکاری تھا کیونکہ ہندوستان نے پاکستان کے حصے میں آنیوالی رقم اور مال دونوں روک لیے تھے اور کہا تھا کہ پاکستان سے جلد ہی الگ ھونے کا بھوت اتر جائے گا اور یہ دوبارہ متحدہ ہندوستان میں شامل ھونے کا اعلان کریں گے قائداعظم حضرت محمدعلی جناح نے جو کرنا تھا وہ کر گزرے اب اس قوم کیلئے بڑا چیلنج ہندوستان کے چیلنج کو روکنا تھا لہذا یہ قوم متحد ھوئی اور پاکستان کے گھٹنے ٹیکنے کے خواب دیکھنے والا ہندوستان حیران رہ گیا۔آزادی کے محض سترہ سال ہی گزرے تھے کہ ازلی دشمن نے جنگ چھیڑ دی جس کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا اور پاکستان سے دگنی چوگنی طاقت رکھنے والے دشمن کو منہ کی کھانی پڑی پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ھوکر اپنے سے ڈبل ٹرپل دشمن سے لڑ گئی اور دنیا کو بتادیا کہ زندہ قومیں کیسی ھوتی ہیں بھارت شکست کھاکر بھاگ چکا تھا اسے نو مولود پاکستان سے اس قدر سخت جواب کی توقع نہیں تھی وہ سمجھ بیٹھا تھا کہ یہ ایک تر نوالہ ہے اسے نگل جاؤں گا۔

شکست کے بعد انہیں اندازہ ھوچکا تھا کہ اس قوم سے براہ راست جنگ نہیں جیتی جاسکتی لہذا اس نے ھماری جڑیں کھوکھلی کرنی شروع کردیں اور ھمارے سیاستدانوں میں پھوٹ ڈال دی ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان سیاسی محاذ آرائی جاری تھی جس میں شیخ مجیب الرحمن کو واضح برتری مل گئی اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے یہ بات ذوالفقار بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو ہضم نہ ھوئی انہوں نے رولا ڈال دیا اور نعرہ لگادیا کہ ادھر تم ادھر ہم,بس پھر کیا تھا اقتدار کی کھینچا تانی شروع ھوگئی ہارنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے وزیراعظم کی کرسی پر قبضہ کرلیا اور شیخ مجیب الرحمن اور ان کے ساتھیوں کو غدار کا ٹائٹل دیدیا,ادھر انڈیا جو پہلے ہی تاک میں تھا اس نے آگ پر تیل ڈالنا شروع کردیا اور بنگالیوں کو بھڑکانا شروع کردیا حالات دن بدن خراب سے خراب تر ھوتے چلے گئے اور ملک بھر میں مظاہرے شروع ھوگئے 1971 میں مشرقی محاذ پر جنگ شروع ھوگئی بھارت براہ راست جنگ میں کود پڑا اس جنگ میں پاکستان کو سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور مشرقی حصہ پاکستان سے الگ ھوگیا اور نیا ملک بنگلہ دیش بن گیا۔ایک شخص کی ضد,انا اور اقتدار کے لالچ نے ملک کو دولخت کردیا۔

اس واقعے کو 51 سال بیت چکے ہیں یہ قوم آج بھی بکھری ھوئی ہے اس وقت عمران خان زندہ باد,نوازشریف زندہ باد اور جئے بھٹو کے نعرے لگانے والے تو ہیں لیکن پاکستان زندہ باد کہنے والا کوئی نہیں اس وقت بھی تقریباً وہی سیچوئیشن ہے ایک طرف عمران خان ہے جبکہ دوسری طرف گیارہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم ان سب میں اقتدار کی کھینچا تانی جاری ہے جبکہ ملک ڈیفالٹ کے قریب ہے اس وقت ڈیفالٹ کا خطرہ 92.3 فیصد پر پہنچ چکا ہے ھمارے پاس قرضوں کی ادائیگیاں کرنے کے پیسے نہیں ہیں ہم قرض لیکر قرضوں کی ادائیگیاں کرنے پر مجبور ہیں لیکن آج بھی ھمارے سیاستدانوں اور اشرافیہ کے اللوں تللوں میں کوئی کمی نہیں آئی حالانکہ ہم کچھ ماہ پہلے سری لنکا کو اپنی آنکھوں سے ڈیفالٹ ھوتے دیکھ چکے ہیں آخر کیوں ھمیں سمجھ نہیں آرہی کہ ہماری معاشی کمزوری ھمیں لے ڈوبے گی دشمن کی نظریں اب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر ہیں وہ اس حوالے سے ہم پر واضح کرچکا ہے لیکن ھمارے سیاستدان آج بھی میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ھوئے ہیں اور اقتدار کی کھینچا تانی جاری ہے عمران خان 2018 میں اقتدار میں آئے اور بلند و بانگ دعوے کیے لیکن قوم سے کیے ھوئے واعدے پورے نہ کرسکے اپریل 2022 میں عدم اعتماد کے بعد ان کی حکومت ختم کردی گئی اور پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار شہبازشریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھالیا پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ماضی میں ایکدوسرے کی سخت حریف سمجھی جاتی تھیں لیکن عمران خان کے اقتدار میں بیٹھنے کے بعد یہ دونوں اکٹھی ھوگئیں اور انہوں نے باقی چھوٹی جماعتوں کو بھی ساتھ ملالیا اور عمران خان کیخلاف کمرکس لی مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم ھمیشہ ہی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے آئے ہیں جس کی بھی حکومت ھو یہ دو پارٹیاں ہر حکومت میں شامل ھوتی ہیں عمران خان نے جب اپریل میں حکومت چھوڑی تو اس وقت ڈیفالٹ کا خطرہ 3

فیصد تھا جو اب 92.3 فیصد پر پہنچ چکا ہے۔
ملک کے حالات بہت خراب ھوچکے ہیں کے پی کے اور بلوچستان میں ٹی ٹی پی دوبارہ پنجے گاڑ چکی ہے ملک میں دہشت گردی اور دھماکوں کا سلسلہ جو رک گیا تھا دوبارہ شروع ھوچکا ہے فوج کو متنازعہ بنایا جارہا ہے اور سوشل میڈیا پر ان کیخلاف کھل کر لکھا جارہا ہے کیا ایک بار پھر 1971 کی تاریخ دہرائی جائے گی کیا پھر کسی نئے بنگلہ دیش کے بننے کی راہ ہموار کی جارہی ہے نوجوان نسل کو تعلیم اور ہنر کی بجائے زندہ باد اور مردہ کے نعروں پر لگادیا گیا ہے آخر ہم کب سدھریں گے ھم کب ترقی کریں گے؟ ہم سے الگ ھونیوالی بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گیا ہمارے بعد آزاد ھونیوالے ممالک ترقی میں ھم سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور ہم آج بھی اقتدار اقتدار اور کرسی کرسی کھیل رہے ہیں خدارا وہ غلطی نہ دہرائیں جو ھم سنہ 71 میں کرچکے ہیں ملک کی جڑیں کھوکھلی نہ کریں دشمنوں کو نہ دکھائیں کہ ہم الگ الگ ہیں ہم پر وار کرلو۔عمران خان اور پی ڈی ایم کو اس ملک کیلئے اکٹھا ھونا ھوگا یہ آپسی لڑائی ختم کرنی ھوں گی سب ایک جگہ بیٹھ کر اس ملک کی بقاء اور ترقی کیلئے ٹھوس فیصلے کریں اور ملک کو معاشی طور پر مضبوط ملک بنائیں آخر کب تک ھم قرضوں پر گزارا کریں گے ھمیں آزاد ھوئے پچھتر برس ھونیوالے ہیں اب تو ھمیں ملک کی ترقی کا سوچنا چاہیئے موجودہ حکومت کو عمران خان کی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہیئے تاکہ ہیجانی کیفیت ختم ھو تمام پارٹیز کو ایک ٹیبل پر بیٹھ کر مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھنی ھوگی اس تباہی کے ذمہ دار جیسے ہم سب ہیں ویسے ہی اس ملک کی مضبوطی میں بھی ھمیں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ھوگا جیسا کہ پچھلے دنوں خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ھوئے کہا کہ اس ملک کی بربادی اور تباہی کی ذمہ دار کوئی ایک سیاسی جماعت یا ادارہ نہیں ہے بلکہ ہم سب اسکے ذمہ دار ہیں۔

اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی استحکام ہے لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ کرپشن ہے جس نے یہاں مکمل طور پر پنجے گاڑ رکھے ہیں نیچے سے اوپر تک یہ سرعام جاری ہے کوئی بھی حکومت ھو کرپٹ مافیا کو اسکی فکر نہیں ہے وہ اپنا کام ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں سرکاری محکمے ھوں یا پرائیویٹ سیکٹر کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہے جب تک ملک سے کرپشن اور اقرباء پرروی کا خاتمہ نہیں ھوتا تب تک یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ھوسکتا اور کرپشن فقط اس صورت ختم ھوسکتی ہے جب محمد صلیٰ ﷲ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ھوتے ھوئے بلا تفریق سخت سزائیں دی جائیں ھمارے پیارے نبی صلیٰ ﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر محمد کی بیٹی فاطمہ سلام ﷲ علیہ بھی چوری کرتی پکڑی جاتی تو میں اسکے ہاتھ کاٹ دیتا جب طاقتور کو یقین ھوجائے گا کہ کوئی بھی غیر قانونی کام کرنے پر سخت سزا ملے گی تو وہ کبھی بھی کوئی ایسا ویسا کام نہیں کرے گا۔معاشرے ایسے ہی ٹھیک نہیں ھوتے ان کیلئے قواعد و ضوابط بنانے پڑتے ہیں آج مغرب اور یورپ کیوں ترقی یافتہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے وہاں کے قوانین ہر عام و خاص کیلئے یکساں ہیں اور یہاں بکری چور جیل میں سڑ رہا ہے جبکہ ملک لوٹنے والوں کو سیلیوٹ مارے جاتے ہیں۔ھمارا انصاف کا نظام جتنا سستا اور تیز ھوگا اتنا ہی ملک جلدی ترقی کرے گا اور جرائم کا خاتمہ ھوگا ھمیں قوانین کی پاسداری کرنی ھوگی اور اس کا اطلاق ہر عام و خاص کیلئے یکساں کرنا ھوگا۔آخر میں خدا سے دعا ہے کہ میرے ملک و قوم کو ترقی دے اور ھمارے دشمنان کو نیست و نابود فرمائے۔آمین